انوارالعلوم (جلد 3) — Page 582
العلوم جلد۔۵۸۲ ترقی اسلام کے بارہ میں ارشاد - ހ تعالیٰ نے ہمیں ایسا مسیح عطا فرمایا ہے جو نہ صرف خود مردے زندہ کرتا تھا بلکہ اس کا مسیحی نفس جس میں پھونکا گیا وہ بھی مردے زندہ کرنے کی طاقت سے بھر گیا۔چنانچہ تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ دشمنان اسلام کو اگر کوئی جماعت شکست دینے کے قابل ہوئی ہے اور ان کے باطل دلائل کو توڑنے پر قادر ہوئی ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔اگر ادہام پرستی اور باطل کی محبت کو دل سے نکالنے میں کوئی گروہ کامیاب ہوا ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔پس تبلیغ اسلام کے مقدس فرض کی بجا آوری کا کام اسی ایک جماعت کے متعلق ہو سکتا ہے۔اور اس کے متعلق ہے کیونکہ جیسا کے خدا تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ ليُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) مسیح موعود کی بعثت کی غرض ہی یہی ہے کہ اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دے اور جو مسیح موعود کی بعثت کی غرض ہے وہی اس کی جماعت کے قیام کی غرض ہے کیونکہ مقتدی اپنے امام سے جدا نہیں ہو سکتا۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں فرماتا ہے۔اس جماعت کا سب سے اہم فرض یہی ہے کہ وہ دیگر ادیان پر اسلام کو دلائل و براہین کے ذریعہ سے غالب کرے۔کیونکہ تلوار کا غلبہ کوئی چیز نہیں۔تلوار سے ایک انسان کے ظاہر کو تو بدلا جا سکتا ہے دل نہیں بدلا جا سکتا۔دل پر قبضہ دلائل کے ساتھ ہو سکتا ہے۔اور جب تک دل نہ بدلے اس وقت تک مونہہ کا اقرار کوئی نفع نہیں دے سکتا۔پس نہ تو عقل اس بات کو قبول کرتی ہے اور نہ قرآن کریم اس بات کو جائز قرار دیتا ہے جیسا کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں۔لوگوں کو زبر دستی اسلام پر قائم کیا جاوے۔اسلام پہلے بھی اپنے بے نظیر حسن کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں کا فاتح ہوا تھا اور اب بھی اسی طرح لوگوں کے قلوب کو فتح کرے گا۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے اسلام کو اس کی اصلی خوبصورتی کے ساتھ دنیا پر ظاہر کریں۔اور ہمارا ایسا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ اپنے فرض کی ادائیگی ہے اور دنیا میں کوئی خوشی ادائیگی فرض کی خوشی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔پرانے زمانہ میں اس فرض کی ادائیگی کے لئے جانوں کی قربانی کرنی پڑتی تھی کیونکہ لوگ تلوار کے ذریعہ مذہب کی اشاعت میں روکیں ڈالتے تھے۔مگر آج کل ہر مذہب کے لئے آزادی ہے اس لئے پہلے لوگوں کی نسبت ہمارے لئے ایک آسانی ہے کہ صرف مالی قربانی سے ہم اس فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔مگر یہ آسانی ہماری ذمہ داری کو بڑھا دیتی ہے۔جو شخص باوجود آسانی اور سہولت کے اپنے فرض کی ادائیگی میں کو تاہی کرتا ہے وہ اس شخص کی نسبت زیادہ مستحق سرزنش ہے جس کا