انوارالعلوم (جلد 3) — Page 346
سیرت مسیح موعود جواب ملتا۔اور آپ صرف پانی پر یا اور کسی ایسی ہی چیز پر وقت گزار لیتے۔اور صبح پھر آٹھ پہرہ ہی روزہ رکھ لیتے۔غرض یہ زمانہ آپ کے لئے ایک بڑے مجاہدات کا زمانہ تھا۔جسے آپ نے نہایت صبرو استقلال سے گزارا۔سخت سے سخت تکالیف کے ایام میں بھی اشارہ اور کنایہ کبھی جائداد میں سے اپنا حصہ لینے کی تحریک نہیں کی۔نہ صرف روزوں کے دنوں میں بلکہ یوں بھی آپ کی ہمیشہ عادت تھی کہ ہمیشہ کھانا غرباء میں بانٹ دیتے تھے۔اور بعض دفعہ ایک چپاتی کا نصف جو ایک چھٹانک سے زیادہ نہیں ہو سکتا آپ کے لئے بچتا اور آپ اسی پر گزارہ کرتے تھے۔بعض دفعہ صرف چنے بھنوا کر کھا لیتے اور اپنا کھانا سب غرباء کو دے دیتے۔چنانچہ کئی غریب آپ کے ساتھ رہتے تھے اور دونوں بھائیوں کی مجلسوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ایک بھائی کی مجلس میں سب کھاتے پیتے آدمی جمع ہوتے تھے اور دوسرے بھائی کی مجلس میں غریبوں اور محتاجوں کا ہجوم رہتا تھا جن کو وہ اپنی قلیل خوراک میں شریک کرتا تھا اور اپنی جان پر ان کو مقدم کر لیتا تھا۔انہی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدمت اسلام کے لئے کوشش شروع کی اور مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ میں اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کئے۔جن کی وجہ سے آپ کا نام خود بخود گوشۂ تنہائی سے نکل کر میدان شہرت میں آگیا لیکن آپ خود اسی گوشہ تنہائی میں ہی تھے اور باہر کم نکلتے تھے۔بلکہ مسجد کے ایک حجرہ میں جو صرف ۶ × ۵ فٹ کے قریب لمبا اور چوڑا تھا رہتے تھے اور اگر کوئی آدمی ملنے کے لئے آجاتا تو مسجد سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے یا گھر میں آکر بیٹھے رہتے۔غرض اس زمانہ میں آپ کا نام تو باہر نکلنا شروع ہوا لیکن آپ باہر نہ نکلے بلکہ اسی گوشہ تنہائی میں زندگی بسر کرتے۔ان مجاہدات کے دنوں میں آپ کو کثرت سے الہامات ہونے شروع ہو گئے اور بعض امور غیرہ پر بھی اطلاع ملتی رہی۔جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے۔اور آپ کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتے۔اور آپ کے دوست جن میں بعض ہندو اور سکھ بھی شامل تھے ان باتوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے۔خمسة १९ پہلے تو آپ نے صرف اخبارات میں مضامین دینے اشتہار کتاب "براہین احمدیہ شروع کئے۔لیکن جب دیکھا کہ دشمنان اسلام اپنے حملوں میں بڑھتے جاتے ہیں اور مسلمان ان کے حملوں کی تاب نہ لا کر پسپا ہو رہے ہیں تو آپ