انوارالعلوم (جلد 3) — Page 345
م جلد ۳ ۳۴۵ سیرت مسیح موعود پر گزارہ کر لیتے اور اس طرح گویا والد کے قائم مقام آپ کے بڑے بھائی ہو گئے۔لیکن چونکہ وہ ملازم تھے اور گورداسپور رہتے تھے۔اس لئے ان دنوں آپ کو بہت تکلیف ہو گئی حتی کہ ضروریات زندگی کے حاصل کرنے میں بھی آپ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔اور یہ تکلیف آپ کو آپ کے بھائی کی وفات تک برابر رہی۔اور یہ گویا آپ کے لئے آزمائش کے سال تھے اور آپ نے ان آزمائش کے دنوں میں صبرو استقلال سے کام لیا۔وہ آپ کے درجہ کی بلندی کی تین علامت ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ آپ کا اپنے والد صاحب کی مترو کہ جائداد پر برابر کا حصہ تھا پھر بھی آپ نے ان کی دنیا کی رغبت دیکھ کر ان سے اپنا حصہ طلب نہ کیا اور محض کھانے اور کپڑے پر کفایت کی۔گو آپ کے بھائی بھی اپنی طبیعت کے مطابق آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور آپ سے ایک حد تک محبت بھی رکھتے تھے اور کسی قدر ادب بھی کرتے تھے لیکن باوجود اس کے چونکہ وہ دنیا داری میں بالکل منہمک تھے اور حضرت صاحب دنیا سے بالکل متنفر تھے اس لئے وہ آپ کو ضرورت زمانہ سے ناواقف اور ست سمجھتے تھے اور بعض دفعہ اس بات پر اظہار افسوس بھی کرتے تھے کہ آپ کسی کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔چنانچہ ایک دفعہ کسی اخبار کے منگوانے کے لئے آپ نے ان سے ایک نہایت رقم منگوائی تو انہوں نے باوجود اس کے کہ آپ کی جائداد پر قابض تھے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ اسراف ہے۔کام تو کچھ کرتے نہیں اور یونہی بیٹھے کتب و اخبار کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔غرض آپ کے بھائی صاحب بوجہ دنیا داری میں کمال درجہ کے مشغول ہونے کے آپ کی ضروریات کو نہ خود سمجھ سکتے تھے اور نہ ان کو پورا کرنے کی طرف متوجہ تھے جس کی وجہ سے آپ کو بہت کچھ تکلیف پہنچتی۔مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ آپ کے بھائی بھی اکثر قادیان سے باہر رہتے تھے اور ان کے پیچھے ان کے منتظمین آپ کے تنگ کرنے میں خاص طور پر کوشاں رہتے۔انہی ایام میں آپ کو بتایا گیا کہ الہی آپ کا مجاہدہ ، ایثار اور خدمت اسلام انعامات کے حاصل کرنے کے لئے کچھ مجاہدہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ کہ آپ کو روزے رکھنے چاہئیں۔اس حکم کے ماتحت آپ نے متواتر چھ ماہ کے روزے رکھے۔اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کا کھانا جب گھر سے آتا تو آپ بعض غرباء میں تقسیم کر دیتے اور جب روزہ کھول کر گھر سے کھانا منگواتے تو وہاں سے صاف۔