انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 347

وم جلد ۳۰ ۳۴۷ سیرت مسیح موعود کے دل میں غیرت اسلام نے جوش مارا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے الہام ووحی کے ماتحت مامور ہو کر ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب تحریر فرمائیں جس میں اسلام کی صداقت کے وہ اصول بیان کئے جائیں جن کے مقابلہ سے مخالف عاجز ہوں اور آئندہ ان کو اسلام کے مقابلہ کی جرات نہ ہو۔اور اگر وہ مقابلہ کریں تو ہر ایک مسلمان ان کے حملہ کو رد کر سکے۔چنانچہ اس ارادہ کے ساتھ آپ نے وہ عظیم الشان کتاب لکھنی شروع کی جو براہین احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی نظیر کسی انسان کی تصانیف میں نہیں ملتی۔جب ایک حصہ مضمون کا تیار ہو گیا تو اس کی اشاعت کے لئے آپ نے مختلف جگہ پر تحریک کی۔اور بعض لوگوں کی امداد سے جو آپ کے مضامین کی وجہ سے پہلے ہی آپ کی لیاقت کے قائل تھے اس کا پہلا حصہ جو صرف اشتہار کے طور پر تھا شائع کیا گیا۔اس حصہ کا شائع ہونا تھا کہ ملک میں شور پڑ گیا اور گو پہلا حصہ صرف کتاب کا اشتہار تھا لیکن اس میں بھی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے ایسے اصول بتائے گئے تھے کہ ہر ایک شخص جس نے اسے دیکھا اس کتاب کی عظمت کا قائل ہو گیا اس اشتہار میں آپ نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ اگر وہ خوبیاں جو آپ اسلام کی پیش کریں گے وہی کسی اور مذہب کا پیرو اپنے مذہب میں دکھا دے یا ان سے نصف بلکہ چوتھا حصہ ہی اپنے مذہب میں ثابت کر دے تو آپ اپنی سب جائداد جس کی قیمت دس ہزار روپے کے قریب ہوگی اسے بطور انعام کے دیں گے۔(یہ ایک ہی موقعہ ہے جس میں آپ نے اپنی جائداد سے اس وقت فائدہ اٹھایا اور اسلام کی خوبیوں کے ثابت کرنے کے لئے بطور انعام مقرر کیا تاکہ مختلف مذاہب کے پیرو کسی طرح میدان مقابلہ میں آجائیں اور اس طرح اسلام کی فتح ثابت ہو) یہ پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔پھر اس کتاب کا دوسرا حصہ ۱۸۸۱ء میں اور تیسرا حصہ ۱۸۸۲ء میں اور چوتھا حصہ ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔گو جس رنگ میں آپ کا ارادہ کتاب لکھنے کا تھا وہ درمیان میں ہی رہ گیا۔کیونکہ اس کتاب کی تحریر کے درمیان میں ہی آپ کو بذریعہ الہام بنایا گیا کہ آپ کے لئے اشاعت اسلام کی خدمت کسی اور رنگ میں مقدر ہے۔لیکن جو کچھ اس کتاب میں لکھا گیا وہی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا اور اس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ کے دوست دشمن سب کو آپ کی قابلیت کا اقرار کرنا پڑا۔اور مخالفین اسلام پر ایسا رعب پڑا کہ ان میں سے کوئی اس کتاب کا جواب نہ دے سکا۔مسلمانوں کو اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ وہ بلا آپ کے دعوئی کے آپ کو مجدد تسلیم کرنے لگے اور اس وقت کے بڑے بڑے علماء آپ کی لیاقت کا لوہا مان