انوارالعلوم (جلد 3) — Page 276
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۷۶ اسلام اور دیگر مذاہب عداوت سے مراد وہ عداوت ہے جس کا باعث اختلاف مذہبی ہو اور دنیاوی عداوت سے مراد وہ عداوت ہے جس کا باعث کوئی دنیاوی جھگڑا یا فساد ہو۔ان دونوں کا ذکر الگ الگ کیا جائے گا۔پہلے ہم دنیوی عداوت کو لیتے ہیں کہ اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے۔سو یاد رہے کہ وہ عدادت جس کا باعث کوئی دنیا دی جھگڑا یا فساد ہو اسلام نے دو قسموں میں تقسیم کی ہے ایک وہ جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور ایک جس کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے۔جس کا تعلق قلب کے ساتھ ہے اس کے متعلق اسلام کا یہ حکم ہے کہ تم اس کی بالکل پرواہ نہ کرو اور ہر گز کسی شخص کا بغض اپنے دل میں نہ رکھو حتی کہ یہ بھی منع فرمایا کہ اگر کسی شخص سے جھگڑا ہو جائے تو اس سے کلام ترک کر دے بلکہ فرمایا کہ تین دن سے زیادہ کسی شخص سے کلام ترک کرنا منع ہے پھر فرمایا کہ جو شخص کسی سے جھگڑا ہو جانے پر سب سے پہلے اپنے دل سے بغض نکال کر اس سے صلح کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب الحجرة - مسلم کتاب البر والصلة) غرض قلبی عداوت سے اسلام قطعی طور پر روکتا ہے اور بڑے زور سے اپنے پیروؤں کو اس سے باز رکھتا ہے کیونکہ یہ انسان کے لئے ایک زہر کی طرح ہوتی ہے جو اندر ہی اندر اس کے تمام اخلاق حسنہ کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا نتیجہ خطرناک نتن ہوتے ہیں جو نسلاً بعد نسل چلتے ہیں اور قوموں کو تباہ کر دیتے ہیں۔یہ تعلیم تو وہ ہے جو اسلام نے اس عدادت کے متعلق دی ہے جس کا مرکز قلب ہوتا ہے۔باقی رہی وہ عداوت جو اعمال سے تعلق رکھتی ہے یعنی ذہنی اور خیالی عداوت نہ ہو بلکہ عملی طور پر ظاہر ہو یعنی ایک شخص ظلم سے کسی کو نقصان پہنچاتا ہو اور اسے دکھ دیتا ہو تو اس کی نسبت اسلام نے پہلا حکم تو یہ دیا ہے کہ دل میں بغض تو ایسے شخص کے متعلق بھی نہ رکھے کیونکہ کینہ رکھنا ہر حال میں منع ہے کیونکہ وہ فتنوں کا پیدا کرنے والا ہے اور اخلاق کا بگاڑنے والا ہے۔باقی رہا دشمن کی عملی شرارت کا بدلہ سو اس کے متعلق دو حکم ہیں ایک یہ کہ عفو کرو دوسرا یہ کہ سزا دو اور یہ دونوں حکم مختلف موقعوں کے متعلق ہیں کسی موقعہ پر عضو کا حکم ہے اور کسی موقعہ پر سزا کا حکم ہے اور یہ دونوں حکم اور ان کا موقعہ اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔وَ جَزُوا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِّثْلَهَا ، فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشورى : ۳۱) یعنی برائی کی سزا اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ بدی ہو لیکن جو شخص کہ معاف کر دے ایسی صورت میں کہ اس کے عفو سے اصلاح وتی ہو پس اس کا اجر اللہ پر ہے اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ