انوارالعلوم (جلد 3) — Page 277
العلوم جلد - ۳ ۲۷۷ اسلام اور دیگر مذاہب نے ایک دشمن کی شرارت کے مقابلہ میں دو قسم کے سلوک کا ایک مؤمن کو حکم دیا ہے ایک یہ کہ اسی قدر سزا اسے دلوا دو۔دوسرے یہ کہ اسے معاف کر دو اور دونوں کا موقعہ بھی بتا دیا ہے۔اور وہ یہ کہ جہاں امید ہو کہ معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہے وہاں معاف کر دینا چاہئے اور جہاں معاف کرنے سے اصلاح نہ ہوتی ہو وہاں سزا دلانی چاہئے۔اور یہ حکم در حقیقت دو قسم کی طبائع کے لوگوں کے لئے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں میں سے دو قسم کے انسان ہیں ایک ایسے ہیں کہ جب ان کے قصور کو نظر انداز کیا جائے اور باوجود ان کی شرارت کے ان سے چشم پوشی کی جائے تو ان پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ آئندہ دشمنی سے باز آجاتے ہیں اور اپنے کئے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں اور بجائے دشمن کے دوست بن جاتے ہیں چنانچہ یہ وجہ بھی خود قرآن کریم نے ہی بیان فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعُ بالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ (تم السجده : (٣٥) یعنی نیکی کرنی اور بخش دیتا اور سزا دینی ایک نہیں ہو سکتے پس تو اپنے دشمن کی شرارت کا نیک سلوک کے ساتھ جواب دے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس شخص کے ساتھ تیرا تعلق عداوت کا تھا وہ ایک گہرا دوست بن جائے گا۔اس آیت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ عضو میں اللہ تعالی نے کونسی حکمت رکھی ہے اور اس سے کیا غرض ہے۔پس عفو جیسا کہ پہلی آیت سے ظاہر ہے اسی وقت کرنا چاہئے جب اس میں اصلاح ہوتی ہو اور جب عفو سے اصلاح نہ ہوتی ہو بلکہ وہ شخص اور بگڑتا ہو تو اس وقت سزا دینی چاہئے کیونکہ اس وقت عفو کرنا در حقیقت اس شخص پر بھی اور دیگر بنی نوع انسان پر بھی ظلم کرنا ہے کیونکہ ایسے شخص سے عفو کرنے کا جو عفو سے اور بھی تیز ہوتا ہے اور بغیر سزا کے مانتا ہی نہیں یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ شرارت پر اور دلیر ہو جائے گا اور دوسرے لوگوں پر بھی زیادتی کرے گا اور جس سے ذرا اس کا جھگڑا ہو گا اسے تباہ اور برباد کرنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح دنیا میں فتنہ ترقی کرے گا۔اور اس تمام فتنہ کا باعث یہی شخص ہو گا جس نے ایسے شریر آدمی کو جو دوسروں کو دکھ دیتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے خالی چھوڑ دیا اور باوجود اس بات کے تجربہ کے کہ عفو سے وہ نہیں مانتا اس سے درگزر کیا۔اس موقعہ پر شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ کسی شخص کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ جس شخص سے میرا معاملہ پڑا ہے وہ سزا سے مانے گا یا عفو سے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تجربہ سے معلوم ہوگی اگر دو تین دفعہ کے تجربہ سے معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص عفو اور درگزر سے اپنی -