انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 275

م جلد - ۲۷۵ اسلام اور دیگر مذاہب تین آدمی بیٹھے ہوں تو دو مل کر سرگوشیاں نہ کیا کریں کیونکہ اس سے تیسرے کو تکلیف ہوتی ہے۔(بخاری کتاب الاستيذان باب لا يتناجى اثنان دون الثالث) بڑوں کے ساتھ چھوٹوں کا معاملہ اور علاوہ ان تفصیلی احکام کے ان تمام تعلقات چھوٹوں کے ساتھ بڑوں کا معاملہ کے متعلق جو اوپر بیان ہوئے ہیں ایک عام حکم بھی اسلام نے دیا ہے چنانچہ رسول کریم و فرماتے ہیں۔لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَفِّرْ كَبِيرَنَا - (ترندی ابواب البر والصلة باب ما جاء في رحمة الصبيان، یعنی جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔اس مختصر مگر جامع فقرہ میں تمام ان تعلقات کی تشریح کر دی جو چھوٹوں اور بڑوں کے متعلق ہیں۔جہاں اور متعلقین کے ساتھ اسلام نے نیک سلوک کیا مہمان کے ساتھ نیک سلوک حکم دیا ہے وہاں مہمان کو بھی فراموش نہیں کیا چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكرم ضَيْفَهُ (ابو داود كتاب الاطعمة باب في الضيافة یعنی جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمانوں کی عزت کرے۔دوستی اور محبت کے تعلق کے علاوہ ایک تعلق انسان کا دشمن سے دشمن کے ساتھ تعلق بھی ہوتا ہے اور یہ تعلق ایسا ہے کہ اس میں پڑ کر انسان کا حال معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر کہاں تک شفقت علی خلق اللہ کا مادہ رکھتا ہے کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں تو انسان محبت کی وجہ سے نیک سلوک کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔جہاں محبت نہ ہو بلکہ عداوت ہو ایسی جگہ پر انسان کی قلبی کیفیت کا علم ہو سکتا ہے۔پس وہ مذہب جو دشمنوں کے متعلق بھی ایسی تعلیم دے جو شفقت اور رحمت والی ہو اور ہر ایک فساد اور شر سے پاک ہو رہی مذہب اس قابل ہے کہ دنیا کی اصلاح کا کام اس کے سپرد کیا جائے۔مختلف مذاہب نے دشمنوں کے متعلق مختلف تعلیمیں دی ہیں لیکن ایک ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو تعلیم اسلام نے اپنے دشمنوں سے سلوک کے متعلق دی ہے وہی ایسی تعلیم ہے جو ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ملک کی اصلاح کا باعث ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ سے دنیا میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔اسلام دشمنی اور عداوت کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ایک دینی اور ایک دنیاوی۔دینی