انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 225

۲۲۵ اور شوق رکھیں۔لیکن جب وہ آگیا تو پتہ لگا کہ وہ مثیل تھا۔چھٹی حکمت یہ ہے کہ اگر ہر ایک مذہب کی کتابوں میں حضرت مسیح موعود کا نام لکھ دیا جاتا کہ یہ نبی آئے گا اس کو قبول کر لینا تو ہر ایک مذہب والے کسی دوسرے نبی کی پیشنگوئی دیکھ کر اس میں تحریف کر دیتے۔یا اس کا نام ہی کاٹ دیتے جیسا کہ ایسا ایک واقعہ موجود ہے کہ استثناء باب ۱۸ میں آنحضرت ا کے متعلق پیشگوئی تھی لیکن یہود نے اس کی میں تحریف کر دی۔بات یہ تھی کہ خدا تعالی کے بچے الہاموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ بڑی شان کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ورنہ اگر ایسا نہ ہو تا تو ہر ایک شخص یہ کہہ دیتا کہ میں خدا سے بات پوچھ لوں۔وہ اپنے اوپر چادر ڈال لیتا اور تھوڑی دیر کے بعد کہہ دیتا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ہم نے مسیح موعود کو دیکھتا ہے کہ آپ کو جب الہام ہوتا تو آپ مردنی کی سی حالت ہو جاتی اور اس طرح آپ کے حلق سے آواز آتی کہ گویا کوئی سخت تکلیف میں ہے۔تو خدا تعالیٰ کا کلام خاص شان کے ساتھ نازل ہوتا ہے۔یہود جو ابھی پختہ ایمان والے نہ تھے انہوں نے جب الہام کا نازل ہونا دیکھا جس کو خروج باب ۲۰ آیت ۱۸ و ۱۹ میں اس طرح لکھا ہے کہ " اور سب لوگوں نے دیکھا کہ بادل گرجے۔بجلیاں چھپکیں۔قرنائی کی وی آواز ہوئی۔پہاڑ سے دھواں اٹھا۔اور سب لوگوں نے جب یہ دیکھا تو وہ ہٹے اور دور جا کھڑے رہے۔تب انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں۔لیکن خدا ہم سے نہ بولے۔کہیں ہم مر نہ جائیں"۔تو خدا تعالیٰ نے اس کی سزا ان کو یہ دی کہ ”میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔اور اپنا کلام اس کے مونہہ میں ڈالوں گا۔اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔وہ سب ان سے کے گا (استثناء باب ۱۸ آیت (۱۸) یعنی اب ان کی میں سے کسی کو نبی نہ بناؤں گا اور ان کے ساتھ ہم کلام نہ ہوں گا۔کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ " خدا ہم سے نہ بولے " بلکہ اسطرح کروں گا کہ بنی اسماعیل جو ان کے بھائی ہیں۔ان میں نبی بھیجوں گا۔جو تجھ (موسیٰ) جیسا ہو گا۔یہود پہلے تو ڈر گئے تھے اور کہہ دیا تھا کہ ہم سے خدا نہ بولے۔لیکن جب ان کو یہ سزاملی کہ ان میں سے صاحب شریعت نبی ہونے بند کئے گئے اور نبوت کا فیض بنی اسماعیل کی طرف چلا گیا۔تو انہیں لالچ پیدا ہوئی کہ اب اگر غیر سے نبی پیدا ہوئے تو ہماری ذلت ہوگی اس لئے انہوں نے تحریف کر دی۔اور اس طرح بنا دیا کہ خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲