انوارالعلوم (جلد 3) — Page 224
ار العلوم چند ۳۰ ۲۲۴ انوار خلافت کہ اس ہاتھ والے سے سب کو محبت نہ ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کے نام جن سے انہیں پہلے ہی محبت اور الفت تھی ایک شخص کو دے دیئے۔ہندوؤں کو حضرت کرشن سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ یہ کرشن آگیا ہے اس کے ہاتھ پر جمع ہو جاؤ۔مسیحیوں کو حضرت مسیح کے ساتھ محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ مسیح آگیا ہے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔مسلمانوں کو آنحضرت ا سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ محمد " آگیا ہے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دو۔مسلمان لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّه کا نظارہ دیکھنے کے لئے منتظر تھے کہ محمد کب مبعوث ہوں گے۔لیکن جب انہیں کہا جائے گا کہ لو تمہارے زمانہ میں محمد نازل ہو گیا ہے تو بہت خوش ہوں گے اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھیں گے کیونکہ جس بات کا شوق سے انتظار ہو اس کے پورا ہو جانے پر اسے شوق سے قبول بھی کیا جاتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح نے اپنے بعد دو نبیوں کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ایک اپنے سے بڑے کی اور ایک اپنی ہی آمد ثانی کی لیکن مسیحی لوگ یہی کہتے ہیں کہ مسیح کب آئے گا۔اور وہ نبی " جو تمام انبیاء کا موعود اور سب نبیوں کا سردار تھا باوجود اس کی پیشگوئی انجیل میں موجود ہونے کے مسیحی لوگ اس کی آمد کے خواہشمند نہیں۔مسیح کو خواہ کتنا ہی بڑا کہا جائے پھر بھی وہ آنحضرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن مسیحیوں نے اس خوشی اور شوق سے آپ کا انتظار نہ کیا جس سے وہ مسیح کا انتظار کر رہے ہیں۔کیونکہ مسیح کو وہ اپنا نبی سمجھتے ہیں اور آنحضرت الی کو بیگانہ۔ان کی حالت اسی طرح کی ہے کہ ایک شخص کو کہا جائے کہ تمہیں بیٹا ملے گا پھر یہ کہا جائے تمہارا وہ بیٹا مر گیا ہے وہ دوبارہ زندہ ہو کر ملے گا۔تو اس شخص کو مردہ بیٹے کے زندہ ہو کر ملنے سے جو خوشی ہوگی وہ دوسرے کے ملنے سے نہ ہوگی۔چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء تھا کہ تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دے اس لئے ان کی محبت اور شوق کو جوش دلانے کے لئے ان کے نبیوں کے نام بتا دیے کہ یہی دوبارہ آئیں گے۔لیکن اگر انہیں یہ کہا جاتا کہ ان کے مثیل آئیں گے تو انہیں ایسا شوق اور محبت ان سے ملنے کے لئے نہ ہوتی۔اب مسیحیوں نے بڑے شوق سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت مسیح سے محبت تھی۔ہندوؤں نے بڑی بے تابی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت کرشن سے محبت تھی۔بدھوں نے بڑے جوش سے انتظار کیا کیونکہ انہیں بدھ سے محبت تھی۔مسلمانوں نے بڑی خوشی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں آنحضرت ﷺ سے محبت تھی۔یہ خدا تعالیٰ نے ایک تدبیر فرمائی تھی کہ تمام لوگ آنے والے کی انتظار میں محبت