انوارالعلوم (جلد 3) — Page 226
نوم جلد ۲۲۶ انوار خلافت تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا"۔استثناء آیت ۱۵۔یعنی ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے " کی بجائے " تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے " کر دیا گیا۔لیکن جس نے یہ تحریف کی اسے یہ یاد نہ رہا کہ ۱۵ آیت میں تو میں نے تحریف کر دی ہے لیکن ۱۸ آیت اسی طرح کی ہے۔پس اگر تمام مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہوتا کہ ایک نبی اسلام میں آئے گا اس کو مان لینا تو ضرور ہر ایک مذہب والے حسد اور دشمنی کی وجہ سے اس میں ایسی تحریف کر دیتے کہ جس سے کچھ بھی پتہ نہ لگتا۔خدا تعالیٰ نے اس دھوکا سے لوگوں کو بچانے کے لئے یہ تدبیر کی کہ انہی کے نبیوں کے نام رکھ دیئے تاکہ وہ بجائے ان کے کاٹنے کے سب لوگوں کو سناتے پھریں۔اور اس طرح اس کی آمد سے پہلے خود تمام مذاہب کے پیروؤں کے ذریعہ اس کی شہرت ہو جائے۔اور جب آنے والا آئے گا تو لوگ خود سمجھ لیں گے کہ یہی ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کے لئے یہ تدبیر فرمائی کہ ہر ایک مذہب والوں کے منہ سے اقرار کرایا کہ فلاں نبی آئے گا۔یہ ہے کہ تناسخ کا مسئلہ جو ایک بہت پرانا مسئلہ ہے۔لوگ اس کے دھوکا ساتویں حکمت میں نہ پڑیں۔اور وہ اس طرح کہ تاریخ کے قائل کہتے ہیں کہ جب کوئی انسان مرجاتا ہے تو اسکی روح کسی اور جسم میں داخل ہو کر دنیا میں آجاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو تمام آنے والے انبیاء کی جگہ بھیج کر بتا دیا کہ روحیں کبھی واپس نہیں آیا کرتیں اور نہ کوئی اور جسم اختیار کرتی ہیں۔بلکہ کوئی شخص اس رنگ میں دوبارہ دنیا میں واپس آسکتا ہے کہ اسکی خوبو کسی اور میں آجائے۔دیکھو تم اپنے اپنے نبیوں کی آمد کے منتظر تھے وہ اسی طرح آئے ہیں۔تو اس طرح خدا تعالٰی نے عملی رنگ میں تناسخ کا رد کر دیا۔بیشک لوگ کسی بات کو دلائل اور براہین سے بھی سمجھ جاتے ہیں لیکن دلائل سے ایسی توضیح نہیں ہو سکتی جیسی کہ نمونہ سے ہوتی ہے۔ہندوؤں نے کہا کہ کرشن آئے گا اور یہی تاریخ کے بڑے زور سے قائل تھے۔لیکن ایک شخص آیا جو نہ پہلا کرشن تھا اور نہ کرشن کی روح اس میں تھی۔ہاں اسکی صفات رکھتا تھا۔اس لئے وہ کرشن کہلایا۔اسی طرح مسیحیوں کے کچھ فرقے ہیں جو تناسخ کے قائل ہیں۔اب معلوم نہیں ہیں یا نہیں لیکن پہلے تھے۔ان کو اس غلط عقیدہ سے بچانے کے لئے مسیح آئے۔پھر مسلمانوں میں بھی ایسی جماعت ہے جو تناسخ کو مانتی ہے ان کے اس وہم کو دور کرنے کے لئے محمد آئے اور اس طرح ہر ایک مذہب والوں پر حجت ہو گئی کہ تاریخ بالکل