انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 205

۲۰۵ سے ایک چپڑا سی کا عہدہ بھی ہندوستانیوں کو نہ دیتے تو پھر بھی انہیں وجہ شکایت نہ ہوتی کیونکہ محسن ہر حال میں شکریہ کا مستحق ہوتا ہے اور انگریز ہمارے محسن ہیں۔غلط خیال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس قدر ہمیں آزادی اور آرام میسر ہے ان کے دینے پر گورنمنٹ مجبور ہے کیونکہ ملک کی ترقی میں گورنمنٹ کا اپنا فائدہ ہے اس لئے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں۔ہم کہتے ہیں یہ تو اسی طرح کی بات ہے جس طرح کوئی کہے کہ والدین کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے انہوں نے اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعلق پیدا کر لیا اور میں پیدا ہو گیا۔کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ ہر گز نہیں۔اسی طرح اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بے شک گورنمنٹ کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ امن قائم رکھے مگر اس کے احسان کا بھی تو ہم انکار نہیں کر سکتے۔چونکہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہمیں یہ آرام و آسائش نصیب ہوا ہے۔اس لئے ہم اس کے ممنون احسان ہیں اور بہر حال ہیں۔قربِ الٰہی کے حصول کا طریق: پس تم خوب یاد رکھو کہ سیاست میں پڑنے اور اس کی طرف توجہ کرنے سے سلسلہ احمدیہ نہیں بڑھ سکتا اور ہم میں سے جو کوئی اوروں کے ساتھ مل کر سیاست میں پڑے گا وہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جاتا ہے اس کو وہ بھی نہیں ملتی۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو تو وہ دنیا طلبی میں تمہیں نہیں ملے گا بلکہ خدا طلبی میں ملے گا۔خدا نے ہمارے لئے اپنے فضلوں کے دروازے کھولے ہوئے ہیں اور وہ انسان جس کو آنحضرت ﷺ نے سلام بھیجا اور جس کے ملنے کی توقع کرتے کرتے کئی بڑے بڑے بزرگ گزر گئے وہ خدا نے ہم میں پیدا کیا پھر اس کے ماننے کی ہمیں توفیق دی پھر ماننے ہی کی توفیق نہیں دی بلکہ اس کے سلسلہ کی خدمت کرنے کی بھی توفیق دی ہے۔پس تم خدا تعالیٰ کے دربار کے وائسرائے اور لیفٹننٹ گورنر ہو۔تمہیں دنیا کے کسی درجہ کی ضرورت نہیں ہے۔مسیح موعودؑ کا خادم آنحضرت ﷺ کا خادم ہے اور آنحضرت ﷺ کا خادم خدا تعالیٰ کا خادم ہے اسلئے تمہارے نام خدا تعالیٰ کے خادموں میں لکھے گئے ہیں۔اس سے بڑھ کر انسان کو اور کیا فخر مل سکتا ہے ؟ ایک صحابی کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ میں تمہیں سورہ فاتحہ یاد کراؤں اس نے عرض کی یا رسول اﷲ کیا خدا تعالیٰ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ فرمایا ہے۔آپ نے کہا ہاں تمہارا نام لے کر فرمایا ہے۔یہ سنتے ہی وہ زور سے رونے لگ گیا کہ کیا میری بھی اتنی حیثیت ہے کہ خدا تعالیٰ میرا نام لے۔ہم پر خدا