انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 204

۲۰۴ وہ اس آزادی سے ان کو محروم کردے اور اپنے دفاتر اور اسٹیشنوں کو مذہبی جھگڑوں کی آماجگاہ ہونے سے محفوظ رکھے۔اگر مسلمان بے فائدہ شور نہ کرتے تو آئندہ ان آسانیوں میں اور ترقی ہونے کی امید تھی اور وہ دن دور نہ تھا کہ ہر دفتر کے مسلمان بڑی آسانی سے نماز باجماعت کے ثواب عظیم کو حاصل کر سکتے۔غرض کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ہمارا سب سے بڑا مقصد دین کو پھیلانا ہے اور اس مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں ہر طرح سے آزادی ہے۔ملک کے جس گوشہ میں چاہیں تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔ان فوائد کے مقابلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے (گو میرا یہ خیال نہیں )کہ گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق دبائے ہوئے ہیں تو پھر بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چھوٹی چیزیں بڑی چیزوں پر قربان ہوا کرتی ہیں۔جبکہ ہمیں اس قدر بڑے بڑے حقوق اورآرام اس گورنمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں تو اگر بعض حقوق جو ہمارے خیال کے مطابق ہمیں حاصل ہونے چاہئیں تھے لیکن ابھی تک حاصل نہیں ہوئے تو بھی کوئی حرج کی بات نہ تھی۔انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں پر اکثر جگہ سخت ظلم ہو رہا تھا۔انہوں نے آکر انہیں اس گری ہوئی حالت سے ابھارا۔اب اگرانہوں نے کچھ فوائد حاصل کر بھی لئے تو مسلمانوں کو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ ان کا سب کچھ جاتا رہا تھا انگریزوں نے آکر کچھ واپس دلادیا۔اگر کسی کا روپیہ گم ہو جائے اور کوئی شخص اسے ڈھونڈھ دے تو وہ تو خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ روپیہ اسے انعام کے طور پر دے دیتا ہے۔مسلمانوں کی آزادی بھی گم شدہ تھی انگریزوں نے آکر انہیں واپس دی۔اب اگر انہوں نے کچھ حقوق اپنے لئے رکھ لئے یا کچھ عہدے انگریزوں سے خاص بھی کر دیئے تو احسان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ اس بات پر شور مچا کر ان کا مقابلہ کریں بلکہ شرافت چاہتی ہے کہ ان کے احسان کو یاد کر کے ان کا ہاتھ بٹائیں۔اور اگر بعض حقوق انہوں نے ان کو نہیں بھی دیئے تو اس پر صبر کریں بلکہ اﷲ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس کے فضل سے انگریزوں کی معرفت ان کا بہت کچھ کھویا ہوا واپس ملا۔ان کا دین بھی جا چکا تھا اور دنیا بھی۔دونوں قسم کی آزادیاں اور دونوں قسم کے حقوق ضائع ہو چکے تھے۔انگریزوں نے دین میں تو ان کو کامل طور سے آزادکر دیا اور دنیا میں بھی ان کو بہت کچھ آزادی دی۔پس ان کو تو چاہئے تھا کہ ان کے ممنون ہوتے نہ کہ نکتہ چین بنتے۔جو لوگ دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریزمذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں