انوارالعلوم (جلد 2) — Page 206
۳۰۹ تعالیٰ کے کتنے احسانات اور اسکی کس قدر نعمتیں ہیں کہ ہمیں اس نے یاد کیا ہے۔دنیا میں اگر کسی کو کوئی چھوٹا افسر بھی بلاتا ہے تو وہ پھولا نہیں سماتا۔لیکن افسوس اور صد افسوس اس پر جس کو خدا تعالیٰ بلائے اور وہ اس بلانے کی قدر نہ کرے۔تم کو خدا نے بلایا ہے دنیا کے بادشاہ اور افسر تمہیں وہ نہیں دے سکتے جو خدا تعالیٰ دے سکتا ہے اس لئے تم اس کے بلانے پر دوڑتے اور شکر بجا لاتے ہوئے جاؤ۔دنیا کے مال و متاع ،ناز و نعمت کے لحاظ سے اور لوگ تم سے زیادہ اور بہت زیادہ ہیں مگر دین کے خزانے صرف تمہارے ہی پاس ہیں ان کے پاس نہیں ہیں۔تم اﷲ تعالیٰ کی خدمت کے نصیب ہوتے ہوئے اور کیا چاہتے ہو اسی میں لگے رہو اور دنیا کی ایجیٹیشن دنیا کے کیڑوں کے حوالے کردو اور تم شیطان کے مقابلہ پر ایجیٹیشن کرو۔ایک ایڈیٹر سے آپ کا مکالمہ: ایک شادی کے موقع پر ایک دفعہ مجھے لاہور جانا پڑا جو لوگ شادی میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان میں لاہور کے ایک مشہور اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے۔ان دنوں ٹرکی اور آسٹریا کا آپس میں جھگڑا تھا اس لئے آسٹریا کے مال کو بائیکاٹ کرنے کے لئے اخباروں میں لکھا جا رہا تھا۔میں نے اس سے کچھ مدت پہلے ان ایڈیٹر صاحب کے خلاف ایک سخت مضمون لکھا تھا جو ان کے کسی بیہودہ مضمون کے جواب میں تھا جب ایڈیٹر صاحب کی اور میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا عمر ہے۔میں نے کہا انیس ۱۹سال ہے۔یہ سن کر وہ بڑے متعجب ہوئے اور کہا کہ آپ کی اتنی ہی عمر ہے۔غالباً انہیں وہ مضمون یاد آگیا پھر کہا کہ ٹرکی کے دو صوبے آسٹریا نے دبالئے ہیں اس لئے آپ کے خیال میں آسٹریا سے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا ہمارے سپرد تو بہت بڑا کام ہے اس لئے ہم اور کسی طرف کس طرح توجہ کر سکتے ہیں؟کہنے لگے ہمیں آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور اس کی کوئی چیز نہ خرید نی چاہئے۔میں اس وقت ٹوپی پہنے ہوئے تھا جو کہ اتفاقاً اٹلی کی بنی ہوئی تھی۔وہ ایڈیٹر صاحب کہنے لگے کہ آسٹریا کی بنی ہوئی ٹوپیاں ہمیں نہیں پہننی چاہئیں میں نے کہا کہ میں تو اس خیال میں آپ سے متفق نہیں لیکن میری یہ ٹوپی تو اٹلی کی بنی ہوئی ہے۔جس وقت کا یہ ذکر ہے اس وقت میں ٹوپی پہنا کرتا تھا لیکن حضرت مسیح موعودؑٹوپی کو پسند نہیں فرمایا کرتے تھے مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن میں نے ٹوپی پہنی تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ہیں !تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔میں نے اسی وقت جا کر ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی (اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے بالکل ٹوپی کا استعمال ترک کر دیا )ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ نہیں ہمیں ٹرکی کی مخالف سلطنتوں