انوارالعلوم (جلد 26) — Page 11
انوار العلوم جلد 26 11 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء روپیہ تم سے مانگتا ہے؟ انہوں نے روپیہ دکھایا؟ اس پر قیصر کی تصویر تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو۔7 اس طرح اُن کو جواب دیا اور ٹلا دیا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزوں کو بُرا کہتے تو پھر آپ کے علماء کہتے کہ یہ اچھا مسیح ہے کہ مسیح نے تو کہا تھا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔اور یہ اس کے خلاف کر رہا ہے۔پھر یہ کہ قرآن میں عیسائیوں کی تعریف آئی ہے پہلے ان آیتوں کو کیوں نہیں نکالتے ؟ مرزا صاحب پر غصہ ہے قرآن پر غصہ کیوں نہیں آتا۔قرآن میں عیسائیوں کی تعریف آئی ہے کہ ان کے دل روحانیت سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خدا کی محبت میں آنسو بہتے ہیں۔پھر انگریزوں نے کعبہ پر حملہ کبھی نہیں کیا مگر حبشہ کی حکومت نے مکہ پر حملہ کیا تھا جس کو سورۃ فیل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُب الفیل 8 یہ اصحاب الفیل حبشہ کے گورنر کے سپاہی تھے وہاں اُس وقت ابر ہ گورنر تھا۔اس ابر ہ نے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تھا لیکن باوجود اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کو بلایا اور کہا کہ تم کو آب مکہ میں بڑی تکلیفیں ہیں تم کیوں نہیں اس ملک میں چلے جاتے جو ایک عادل اور نیک بادشاہ کا ملک ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کون سا ؟ فرمایا حبشہ۔تو حبشہ کا بادشاہ وہ تھا جس کے وائسرائے نے کعبہ پر حملہ کیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو عادل اور نیک کہا۔اگر تم کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شک اس کو عادل اور نیک کہا تھا پر آخر میں وہ مسلمان ہو گیا تھا گو پہلے عیسائی تھا۔تو میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ اِنْشَاء الله انگریز بھی مسلمان ہو جائیں گے۔احمدی مبلغ اس لئے باہر نکلے ہوئے ہیں کہ انگریزوں اور امریکنوں اور دوسرے لوگوں کو مسلمان بنا ئیں۔آپ لوگ صرف اعتراض کرنا جانتے ہیں۔آپ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ مسیح موعود نے انگریزوں کی تعریف کیوں کی۔اور احمدی مبلغ انگریزوں اور یورپین لوگوں کے منہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوار ہے ہیں۔مجھے یاد ہے کوئی 1920 ء کی بات ہے ایک دوست نے ایک انگریز نو مسلم کے متعلق مجھے لکھا کہ اُس نے کہا مجھے اسلام سے اتنی عداوت تھی کہ میں جب رات کو سوتا تھا تو