انوارالعلوم (جلد 26) — Page 12
انوار العلوم جلد 26 12 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے کر سوتا تھا مگر اب کسی رات مجھے نیند نہیں آتی جب تک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیج لوں۔تو اب بتاؤ کہ وہ قابل قدر ہے جس کی قوم دنیا میں جارہی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوار ہی ہے یا وہ گاندھی قابلِ قدر ہے جس کے چیلے آج چار کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دُکھ دے رہے ہیں؟ دیکھو کس کی پالیسی ٹھیک نکلی۔جنہوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا وہ گاندھی اور اس کے چیلے تھے وہ تو آج بھی ہندوؤں کی تعریف کر رہے ہیں اور ہندو ان کو ماررہے ہیں لیکن مسیح موعود جس کو کہا جاتا ہے کہ اس نے انگریزوں کی تعریف کی اس کے چیلے ہر جگہ پر مسیح کی اہنیت اور خدائی کا بطلان کر رہے ہیں اور عیسائیوں کو مسلمان کر رہے ہیں۔مجھے یاد ہے میں بچہ تھا سیالکوٹ میں جلسہ ہوا جس میں حضرت صاحب کی تقریر ہوئی۔بڑا ہجوم کر کے مسلمان آئے اور انہوں نے کہا کہ پتھر پھینکو اور ان کو خوب مارو۔اُس وقت مسٹر بیٹی ایک انگریز ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا بعد میں وہ شاید لاہور میں سپر نٹنڈنٹ پولیس ہو گیا تھا، وہ بھی انتظام کے لئے آیا ہوا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر شروع کی اور لوگوں نے پتھر برسانے شروع کئے تو اُس کو غصہ آ گیا۔وہ جگہ جہاں جلسہ ہورہا تھا سرائے تھی ، اُس کی ایک بڑی سی دیوار تھی۔اُس دیوار پر وہ گو د کر چڑھ گیا اور کہنے لگا اے مسلمانو! بے غیر تو ! بے حیاؤ! تمہیں شرم نہیں آتی وہ تو ہمارے خدا کو مار رہا ہے تم کیوں اس کے خلاف ہو؟ غصہ تو مجھے آنا چاہیے تھا جس کے خدا کو وہ مارہا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انگریزوں کے خدا کو اس نے مار دیا ہے لیکن بجائے اس کے تم اس پر پتھر پھینک رہے ہو اور میں اس کی حفاظت کے لئے آیا ہوں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کی خوشامد کر کے کیا لیا ؟ انگریزوں کے خدا کو تو ماردیا۔مسلمانوں نے اس خدا کو آسمان پر چڑھایا تھا۔مرزا صاحب نے آسمان سے اتار کے کشمیر میں دفن کر دیا اور ابھی کہتے ہیں کہ انگریزوں کی خوشامد کی۔دیکھو جو بچے کو خوش کرنا چاہے تو وہ اس کے باپ کی تعریف کرتا ہے۔اگر واقع میں آپ انگریزوں کی خوشامد کرنا چاہتے تو عیسی کی تعریف کرتے مگر انہوں نے تو حضرت عیسی علیہ السلام کی جو جھوٹی عزت عیسائیوں نے بنالی تھی