انوارالعلوم (جلد 26) — Page 10
انوار العلوم جلد 26 10 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء کراچی اور لاہور کی طرح کی بن گئی ہیں اور یہ ساری عمارتیں اتنی جلدی بن گئی ہیں کہ سارے پاکستان میں اتنی جلدی کسی جگہ پر نہیں بنیں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔سو دعا ئیں کرو اللہ تعالیٰ سے کہ وہ اپنے فضل کو بڑھاتا چلا جائے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ اس فضل کا مستحق بنائے۔پھر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک دوست نے آج مصافحہ کرتے وقت اس خیال سے کہ سارے احمدی مل رہے ہیں مجھے بھی احمدی نہ سمجھ لیں کہا کہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ میں غیر احمدی ہوں۔مجھے دل میں ہنسی آئی کہ ہم میں تو خدا نے وہ کشش رکھی ہے کہ ہمارے ہاتھ جس کے جسم کو چُھو جائیں ناممکن ہے کہ وہ اور اس کی اولا دیں غیر احمدی رہ جائیں۔میں نے دل میں کہا کہ آج تو یہ بے چارہ کچھ شرمندہ ہے کہ اتنے احمدیوں میں میں ایک غیر احمدی آیا ہوں اور کسی دن اس کا سارے کا سارا خاندان احمدی بن کے آئے گا اور کہے گا حضور ! ہمارے خاندان کا ایک ہزار آدمی احمدی ہے۔6 اسی طرح مجھے ملاقاتوں میں آج ایک دوست نے بتایا کہ ایک دوست تشریف لائے ہوئے ہیں جو اپنی قوم میں رئیس ہیں، احمدیت کی بہت سی کتب بھی انہوں نے پڑھی ہیں لیکن ان کے دل میں یہ شبہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کی تعریف کی ہے۔میں مختصر طور پر ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پہلی تعریف تو قرآن نے کروائی ہے۔انگریز آخر فرعون سے تو بدتر نہیں لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب خدا تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا اے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون! تم دونوں فرعون کے پاس جانا تو فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا۔دونوں اس کے ساتھ بڑے ادب اور احترام کے ساتھ باتیں کرنا۔تو یہ تو قرآن کا سبق ہے۔اگر مرزا صاحب اس پر عمل نہ کرتے تو پھر آپ لوگ کہتے کہ مرزا صاحب نے قرآن کی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔اب جو قرآن کی تعلیم پر عمل کیا ہے تو آپ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا ہے۔پھر دوسرا اعتراض آپ لوگ یہ کرتے کہ حضرت مسیح ناصرٹی کے سامنے ایک روپیہ پیش کیا گیا اور لوگوں نے کہا کہ قیصر ہم سے ٹیکس وصول کرنا چاہتا ہے کیا ہم دیں یا نہ دیں؟ گاندھی جی نے تحریک کی تھی کہ گورنمنٹ کو ٹیکس نہ دو۔انہوں نے بھی یہی چالا کی کی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آئے اور ان کو کہا کہ قیصر ہم سے ٹیکس مانگتا ہے دیں کہ نہ دیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ کونسا