انوارالعلوم (جلد 26) — Page 555
انوار العلوم جلد 26 555 جلسہ سالانہ 1962 ء کے افتتاحی و اختتام بھی احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں۔کیونکہ فطرتی طور پر ہر انسان پاکیزگی کا خواہشمند - صرف بیرونی علائق اور روکیں ہی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ سے دُور رکھتی ہیں لیکن جب کوئی نیک نمونہ اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی خوابیدہ فطرت بیدار ہو جاتی ہے اور وہ بھی د نیوی علائق کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے آستانہ کی طرف جھک جاتا اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتا ہے۔پس احمدیت پھیلانے کے لئے اپنا نیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرو اوران کی ہدایت سے کبھی مایوس نہ ہو۔تمام دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جب چاہے تغیر پیدا کر دیتا ہے۔دیکھو فتح مکہ تک تمام عرب کفر و شرک میں گرفتار تھا مگر ادھر مکہ فتح ہوا اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل کھول دیئے اور وہ جوق در جوق اسلام میں شامل ہونے لگ گئے۔یہاں تک کہ وہ ہندہ بنت عتبہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ تک نکلوایا تھا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی۔اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے یہ اقرار لیا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو ہندہ جو ایک دلیر عورت تھی فوراً بول اٹھی کہ یا رسول اللہ ! کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ آپ اکیلے اور بے یار و مدگار تھے، کوئی جماعت آپ کے ساتھ نہ تھی ، کوئی ہتھیار آپ کے پاس نہ تھے اور دوسری طرف سارا مکہ تھا اور بڑے بڑے سردار آپ کے مقابلہ میں تھے مگر آپ کا خدا جیتا اور ہمارے بت ہار گئے ، کیا اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد بھی ہم بت پرستی کر سکتی ہیں ؟1 اب دیکھو ہندہ بنت عتبہ کتنی شدید دشمن تھی مگر پھر کس طرح ایک دن سچے دل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی۔اسی طرح ایک اور شخص کا واقعہ ہے جو غزوہ حنین سے تعلق رکھتا ہے۔جب حنین کی جنگ ہوئی تو مکہ کے ہزاروں نو مسلم بھی اس جنگ میں شریک ہو گئے۔مگر چونکہ ایمان ابھی اُن کے دلوں میں راسخ نہ تھا اس لئے جب دشمن نے تیروں کی بوچھاڑ کی تو سب سے پہلے مکہ کے نو مسلم میدانِ جنگ سے بھاگے اور اُن کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریوں کے قدم بھی اکھڑ گئے اور انہوں نے بھی میدانِ جنگ سے بھاگنا شروع کر دیا۔جب