انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 554

انوار العلوم جلد 26 554 جلسہ سالانہ 1962 ء کے افتتاحی واخذ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص کے دو دن بھی نیکی کے لحاظ سے برابر رہے وہ گھاٹے میں رہا۔اور آپ کے لئے تو جلسہ کے تین دن رکھے گئے ہیں۔اگر ان تین دنوں میں بھی آپ کے اندر کوئی تغیر پیدا نہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کتنے بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔پس یہ ایام بہت زیادہ فکر کے ساتھ بسر کریں اور اٹھتے بیٹھتے دعاؤں اور ذکر الہی پر زور دیں۔تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور سلسلہ کی ضروریات کا علم حاصل کر کے ان میں حصہ لینے کی کوشش کریں۔مجھے افسوس ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے جلسہ میں شامل نہیں ہو سکا لیکن میرا یہ پیغام ہے جو آپ لوگ یا درکھیں کہ دنیا کی نجات اس وقت آپ لوگوں سے وابستہ ہے اس لئے اشاعتِ اسلام اور اشاعتِ احمدیت کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور اپنے نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو احمدیت کی طرف مائل کریں۔جس طرح ہر مغز اپنے ساتھ ایک قشر رکھتا ہے اسی طرح اشاعت اسلام کا کام بھی جہاں ظاہری جد و جہد سے تعلق رکھتا ہے جو اس کا ایک جسم ہے وہاں اس کا مغز اور اس کی روح وہ اخلاص اور تبتل الی اللہ ہے جو ایک سچے مومن کے اندر پایا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تائید آسمان سے نازل ہوتی ہے۔جس طرح قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تعالیٰ کو نہیں پہنچتا بلکہ دل کا اخلاص اور تقوی خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے اسی طرح صرف ظاہری جد و جہد خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوتی بلکہ وہ جد و جہد مقبول ہوتی ہے جس میں تقویٰ اور اخلاص اور روحانیت کی چاشنی بھی موجود ہو۔اور جس شخص کے اندر سچا اخلاص اور تقوی پایا جائے اُس کے جوارح پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور وہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جاتا ہے۔جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بظاہر دیکھنے میں تو یہ شخص بھی ہماری طرح ہی ہے لیکن اس کے اخلاق ہم سے اعلیٰ ہیں۔اس کی عادات ہم سے بہتر ہیں۔اس کے اندر نماز اور روزہ اور دعاؤں اور صدقات کا زیادہ شغف پایا جاتا ہے اور یہ ہر قسم کے رذائل سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر یہ شخص اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو ہم کیوں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ