انوارالعلوم (جلد 26) — Page 556
انوار العلوم جلد 26 556 جلسہ سالانہ 1962 ء کے افتتاحی واخ صحابہؓ نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے بڑی سختی سے اپنی سواریوں کو روکنا شروع کیا مگر وہ اتنی خوف زدہ تھیں کہ ذرا باگ ڈھیلی ہوتی تو وہ پھر پیچھے کو دوڑ پڑتیں۔اس جنگ میں ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف چند صحابہ رہ گئے۔اُس وقت ایک شخص جو دل سے کا فر تھا اور صرف اس لئے جنگ میں شامل ہوا تھا کہ مجھے موقع ملا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اس نے جب دیکھا کہ اس افراتفری کی وجہ سے میدان خالی پڑا ہے تو اُس نے اِس موقع کو غنیمت سمجھا اور اپنی تلوار کھینچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے لگا۔وہ شخص خود بیان کرتا ہے کہ جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع ہوا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے اور قریب ہے کہ وہ مجھے بھسم کر دے۔اتنے میں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ ! میرے قریب ہو جاؤ۔جب میں آپ کے قریب گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر پھیرا اور فرمایا اے خدا ! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات دے۔شیبہ کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھیر نا تھا کہ تمام شیطانی خیالات یکدم میرے دل سے نکل گئے اور یا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے آگے بڑھا تھا اور یا یہ کیفیت ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے نظر آنے لگے۔پھر آپ نے فرمایا شیبہ! آگے بڑھو اور دشمن سے لڑو۔تب میں آگے بڑھا اور میں نے دشمن سے لڑائی شروع کر دی اور میں اتنے جوش کے ساتھ لڑا کہ خدا کی قسم ! اگر اُس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آتا تو میں اُس کے پیٹ میں اپنا خنجر گھونپ دیتا اور اس کے مارنے سے قطعاً دریغ نہ کرتا۔پس مشکلات کو دیکھ کر کبھی گھبراؤ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی فتح مقدر کر رکھی ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے ایک وقت آئے گا کہ خدا اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادۃ برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔2