انوارالعلوم (جلد 26) — Page 320
انوار العلوم جلد 26 320 سیر روحانی (11) پیش نہیں کیا جا سکتا۔اور یہ دعوی ایسا ہے جو خود قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے روحانی لنگر کے اندر انواع واقسام کے کھانوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وَ كُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تَفْصِيلا 9 یعنی ہم نے قرآن کریم میں ہر روحانی امر کو جس کی دنیا کو ضرورت تھی اچھی طرح کھول کر بیان کر دیا ہے۔گویا قرآن کے روحانی لنگر میں انواع و اقسام کے کھانے بٹ رہے ہیں جن کی مثال بادشاہوں کے لنگر خانوں میں تو کیا پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔اسی طرح قرآن میں مختلف انواع واقسام کی روحانی تعلیم کے پائے جانے کا ذکر دوسری جگہ اس طرح کیا گیا ہے کہ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ 10 یعنی اس قرآن کے ذریعہ سے انسان کو وہ کچھ سکھایا گیا ہے جو پہلی کتب سماویہ کے ذریعہ نہیں سکھایا گیا تھا۔گویا قرآن شریف کو نہ صرف دُنیوی لنگروں پر فضیلت ہے بلکہ سب آسمانی لنگروں پر بھی فضیلت ہے۔چنانچہ اس کی مثال کے طور پر میں فرعون کے واقعہ کو پیش کرتا ہوں۔فرعون موسی کے متعلق قرآنی انکشاف قرآن کریم میں جو موسیٰ اور فرعون کے قریباً بائیس سو سال بعد آیا ہے اُس میں یہ لکھا ہے کہ فرعون کا جسم فرعونیوں کے سمندر میں غرق ہونے کے وقت بچالیا گیا تھا 11 صرف اس کی روح لے لی گئی تھی تا کہ وہ آئندہ عذاب اُٹھائے مگر بائبل جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اُس زمانہ میں اُتری تھی جس زمانہ میں فرعون ڈوبا تھا اُس میں یہ سچائی کہیں بیان نہیں کی گئی۔اب غور کرو کہ بائیس سو سال کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک اُمّی اور ان پڑھ تھے وہ تو اِس مضمون کو بیان کرتے ہیں کہ آج سے بائیس سوسال پہلے جب موسی مصر سے بھاگے تھے اور فرعون نے اُن کا تعاقب کیا تھا تو خدا نے فرعون کو سمندر میں تو غرق کر دیا تھا لیکن اُس کی لاش کو محفوظ رکھا گیا تھا تا کہ وہ آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے عبرت اور نصیحت کا موجب بنے مگر بائبل اس بات کو بیان نہیں کرتی حالانکہ وہ اُسی زمانہ کی کتاب ہے جس زمانہ میں فرعون غرق ہوا۔اب تاریخ کو دیکھو تو وہ اسی بات کی تائید کرتی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔چنانچہ جو پرانی ممیاں نکلی ہیں