انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 321

انوار العلوم جلد 26 321 سیر روحانی (11) اُن میں فرعونِ موسی کی ممی بھی نکلی ہے۔مصریوں کو ایسی دوائیں معلوم تھیں کہ جب وہ میت کے اندر وہ دوائیں ٹیکہ کے ذریعہ پہنچا دیتے تو لاشیں کئی کئی سو سال تک محفوظ رہتی تھیں۔اب انگریزوں نے بھی ایسی دوائیں نکال لی ہیں لیکن تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یورپ نے جو دوائیں ایجاد کی ہیں اُن کی وجہ سے لاشیں صرف تمہیں چالیس سال تک محفوظ رہتی ہیں اس کے بعد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں مگر مصریوں کی کئی کئی ہزار سال کی ممیاں ا مل گئی ہیں۔اُن کو کئی ایسے نسخے معلوم تھے کہ جن کی وجہ سے کئی کئی ہزار سال تک لاشیں محفوظ رہتی تھیں۔فرعون موسٹی کی ممی پر ہی پینتیس سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ ممیاں جو فرعون موسی سے بھی کئی کئی ہزار سال پہلے کی ملی ہیں اُن کو لے لیا جائے تو پھر پانچ چھ ہزار سال سے وہ لاشیں محفوظ چلی آ رہی ہیں مگر یورپین لوگوں نے ابھی تک صرف تہیں چالیس سال تک کے لئے لاش کو محفوظ رکھنے کا علاج نکالا ہے اس سے زیادہ نہیں۔بہر حال ہمیں تو صرف اُس فرعون کی ممی سے غرض ہے جو فرعونِ موسی کہلاتا ہے اور اُس کے متعلق موسٹی کے بائیس سو سال بعد قرآن نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش کو محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اُس کو خیال آیا کہ معلوم ہوتا ہے موسی سچا ہی تھا اور میں اس کی مخالفت کر کے غلطی کرتا رہا۔چنانچہ اُس نے ڈوبتے وقت کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ سوائے اُس خدا کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور کوئی خدا نہیں۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون سے کہا کہ اب ایمان لاتے ہو جب کہ تم مرنے لگے ہو۔اب تو صرف یہی ہے کہ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ 12 ہم تیرے جسم کو نجات دیں گے تا کہ تو آنے والے لوگوں کے لئے نشان ہو۔چنانچہ اُس کی لاش محفوظ رہی۔مگر وہ لاش تو اس زمانہ میں ملی ہے جبکہ قرآن کے نزول پر بھی چودہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے خبر دے دی تھی کہ فرعونِ موسی کی لاش محفوظ ہے اور اگر اس میں بائیس سو سال کا پہلا عرصہ بھی شامل کر لیا جائے تو پینتیس سو سال سے یہ پیشگوئی پوری ہوتی چلی آ رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ممی کے نام کے متعلق اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف صرف