انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 318

انوار العلوم جلد 26 318 سیر روحانی (11) لاٹ بھی نظر آئی، فیروز شاہ تغلق کی لاٹ بھی نظر آئی ، شاہی قلعہ بھی نظر آیا، مسجدیں بھی نظر آئیں۔مقبرے بھی نظر آئے۔غرض آثار قدیمہ کی بہت سی چیزیں اُس وقت میں نے دیکھیں۔اور کچھ چیزیں ایسی تھیں جو حیدر آباد سے میں دیکھتا چلا آ رہا تھا۔جب میں نے ان چیزوں کو دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ تو ساری دنیا جمع ہوگئی ہے۔پھر میں کھڑے ہوئے انہی پر غور کرتے کرتے ایسا محو ہوا کہ مجھے کوئی ہوش ہی نہ رہی اور میں اسی محویت کے عالم میں وہاں دیر تک کھڑا رہا۔یہاں تک کہ میری بہن نے نیچے سے آواز دی کہ جلدی آئیں دیر ہو رہی ہے اور دھوپ تیز ہوتی جاتی ہے۔مگر میں اُس وقت بالکل بے بس ہو رہا تھا۔پھر میری بیٹی نے بھی آواز دی کہ ابا جان آجائیں آپ کب تک دیکھتے رہیں گے۔اُس وقت یکدم میرے دل میں خیال گزرا کہ یہ کیا ذلیل دنیوی چیزیں ہیں ان سے بہتر چیزیں تو خود قرآن میں موجود ہیں۔اور اُس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔” میں نے پالیا۔میں نے پالیا جب میں نے کہا میں نے پالیا میں نے پالیا تو میری لڑکی نے کہا ابا جان آپ نے کیا پالیا؟ میں نے کہا میں یہاں نہیں بتا سکتا۔جلسہ سالانہ پر میں ساری جماعت کے سامنے بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا ہے۔چنانچہ اُسی سال سے یہ مضمون چلا آ رہا ہے اور ہر سال ایک ایک یا دو دو مضمون بیان ہو جاتے ہیں۔اب اگلے سال صرف ایک مضمون رہ جائے گا۔اس کے بعد پھر فضائل القرآن کا مضمون شروع ہو جائے گا۔اگر اس کے کچھ نوٹ ہمارے مولوی یعقوب صاحب نے محفوظ رکھے ہوئے ہیں تو پھر فضائل القرآن پیش کئے جائیں گے۔وہ فضائل القرآن براہین احمدیہ کے اصول پر ہیں یعنی ان میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح قرآن کریم مختلف رنگوں میں دوسری کتابوں پر فضیلت رکھتا ہے بہر حال آج میں لنگر خانے کا مضمون لے رہا ہوں۔“ (الفضل 25 فروری 1958ء)