انوارالعلوم (جلد 26) — Page 317
انوار العلوم جلد 26 317 سیر روحانی (11) " اس کے بعد سیر روحانی، جیسے اہم موضوع پر تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا :- ” میری آج کی تقریر جو سیر روحانی کے سلسلہ میں ہے اس کا آج پندرھواں مضمون ہے۔اس تقریر کے گل سولہ مضمون تھے جن میں سے چودہ ختم ہو چکے ہیں اور پندرھواں آج بیان ہو جائے گا۔اس کے بعد صرف ایک مضمون رہ جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی تو اگلے سال ہو جائے گا۔اس تقریر کا خیال تو مجھے ایک وقتی جذ بہ کے ماتحت آیا تھا لیکن یہ اتنی مقبول ہوئی کہ بہت سے لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ یہ تو اسلامک انسائیکلو پیڈیا ہے ہمیں جس مضمون کی ضرورت ہوتی ہے ہم اس سے نکال لیتے ہیں اور پڑھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔دیباچہ قرآن اور احمدیت اور سیر روحانی یہ کتابیں عام طور پر بڑی مقبول ہوئی ہیں۔وہ دو مضمون جو باقی رہ گئے ہیں لنگر خانے اور کتب خانے ہیں۔میں آج لنگر خانے کا مضمون لیتا ہوں۔اس مضمون کی تحریک مجھے اس طرح ہوئی کہ جب میں سفر دکن سے واپس آیا تو راستہ میں ہم دتی میں ٹھہرے۔میرے ساتھ اُس وقت میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ اور میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم اور میری بیٹی امتہ القیوم تھیں۔جب ہم دتی میں آئے تو میں نے کہا کہ ہم ان کو بھی سیر کرالائیں۔چنانچہ مختلف مقامات کی میں نے انہیں سیر کروائی۔ایک دن ہم اوکھلا بند دیکھنے گئے جہاں ذاکر حسین صاحب نے اپنا کالج کھولا ہوا ہے۔انہوں نے ایک دفعہ کسی آدمی کے ہاتھ مجھے پیغام بھجوایا تھا کہ آپ ضرور آئیں اور مجھے ملیں۔چنانچہ میں ان کے کالج میں چلا گیا۔وہ تو اُس وقت بمبئی چلے گئے تھے جرمنی کا کوئی پروفیسر ان کا قائم مقام تھا۔اس نے مجھ سے باتیں کیں اور کہا کہ یہ بڑی اچھی سیر گاہ ہے اسے آپ پھر کر دیکھیں۔چنانچہ وہاں ہم نے تعلق کا مقبرہ دیکھا۔جب اس مقبرہ سے ہم باہر نکلے تو تغلق آباد کے قلعہ کو دیکھنے کے لئے چلے گئے۔یہ قلعہ ایک بلند جگہ پر واقع ہے اور خاصا او پر چڑھ کر اس میں داخل ہونا پڑتا ہے میں اپنی بیوی اور بچی کو لے کر اس پر چڑھ گیا۔جب میں اس کی چوٹی پر چڑھا تو مجھے ساری دتی نظر آنے لگ گئی کیونکہ وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں سے ساری دتی کے پرانے آثار نظر آتے تھے۔جب میں اس پر کھڑا ہوا تو مجھے قطب صاحب کی