انوارالعلوم (جلد 26) — Page 245
انوار العلوم جلد 26 245 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ پیش کر سکتی ہو۔اخباروں میں عموما چھپتا رہتا ہے کہ ہماری مساجد کہاں کہاں ہیں۔اس وقت ساری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ ایک ارب کے قریب ہے لیکن تم جو پاکستان میں چھ ہزار میں سے ایک ہو اور دنیا کے لحاظ سے چھ لاکھ میں سے ایک ہو تم نے ہالینڈ میں ایک شاندار مسجد بنائی ہے۔اس مسجد کی تصویر میں تم اپنے پاس رکھو بلکہ مرکز کو چاہیے کہ وہ ان تصاویر کو عورتوں میں پھیلائیں اور پھر یہ تصویر میں تم دوسرے مسلمانوں کے سامنے پیش کر کے کہو کہ تم 1953ء میں ہمیں مارنے کیلئے آتے تھے لیکن تمہیں کسی غیر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق نہیں ملی اگر ملی ہے تو اسی جماعت کی عورتوں کو ملی ہے جسے تم کافر اور گمراہ کہتے ہو۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے دنیا میں گھر بناتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔11 ہم نے ہیگ میں مسجد بنالی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق ہمارے متعلق آپ کی شہادت موجود ہے کہ جنت میں اپنا گھر ہوگا لیکن تمہارے پاس اس کی کونسی شہادت ہے کہ تمہارا جنت میں گھر ہو گا۔تمہارے سامنے چھ سو سال تک یورپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں ، اس نے اسلام کے خلاف کتابیں لکھیں اور تمہارے بیٹوں کو پڑھا ئیں اور انہیں ملحد بنایا لیکن تمہیں اس بات کی توفیق نہ ملی کہ تم یورپ میں خدائے واحد کا نام بلند کرتے اور اس کی عبادت کیلئے مسجدیں بناتے۔مگر ہم نے تمہاری اولادوں کو صحیح معنوں میں مسلمان بنایا اور پھر انہیں دینی تعلیم دلائی اور انہیں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی۔اور پھر ہم نے انہیں یورپ بھیج دیا اور انہوں نے وہاں مساجد بنانی شروع کر دیں۔کسی نے ہیگ میں مسجد بنائی تو کسی نے لندن میں خدا تعالیٰ کے گھر کی بنیاد رکھی ہے۔اس کے بعد کوئی ہنوور میں مسجد بنائے گا تو کوئی فرینکفورٹ میں بنائے گا۔اور اسی طرح ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مساجد بنتی چلی جائیں گی۔غرض ہمارے ذریعہ سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ہمارے ذریعہ سے غیر ممالک میں مساجد بنیں گی اور ہمارے ذریعہ سے خدائے واحد کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلے گا۔لیکن مسلمانوں سے کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ان سے تو مغلیہ سلطنت کا آخری تاجدار ظفر ہی اچھا رہا جس نے یہ شعر کہا