انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 244

انوار العلوم جلد 26 244 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ز دیکھو! بعض اوقات ذراسی عقل سے کام لینے سے کام بن جاتا ہے۔جب ام طاہر بیمار تھیں اور لاہور میں زیر علاج تھیں تو ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔اُن دنوں ایک مولوی صاحب رات کے وقت میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کی جماعت بہت تھوڑی ہے۔زیادہ سے زیادہ اس کی تعداد دس لاکھ ہو گی لیکن دوسرے مسلمان تو کروڑوں کی تعداد میں ہیں اگر آپ دوسرے مسلمانوں سے مل کر کام کرتے تو کام زیادہ ہوتا۔میں نے کہا آپ رات کے وقت میرے پاس آئے ہیں۔میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ تکلیف کیوں اٹھائی ہے کیونکہ جہاں تک تعداد کا سوال ہے ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن اس کے باوجود اگر آپ کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ احمدی آپ کے ساتھ ملیں تو اس لئے کہ احمدی کام کرنے والے ہیں۔اگر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں تو شاید زیادہ کام ہو سکے۔لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ یہ لوگ جو کام کرنے والے ہیں کہاں سے آئے ہیں؟ یہ آپ لوگوں سے ہی نکل کر آئے ہیں مگر احمدی جماعت میں داخل ہوتے ہی کام کرنے والے وجود بن گئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب میں کوئی ایسی تاثیر ہے کہ جو شخص اس جماعت کے ساتھ مل جاتا ہے وہ کام کرنے لگ جاتا ہے اور آپ لوگوں سے جو شخص ملتا ہے وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔آپ اس جماعت سے چھ ہزار گنا زیادہ ہیں مگر پھر بھی آپ لوگ وہ کام نہیں کر رہے جو یہ جماعت کر رہی ہے۔اگر آپ سوچتے تو در حقیقت آپ کو مجھ سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ اپنی جماعت کو تاکید کر دیں کہ وہ ہمارے ساتھ نہ ملیں ورنہ وہ بھی ویسے ہی ست اور ناکارہ ہو جائیں گے جیسے عام مسلمان سست ہیں اور اسلام کی اشاعت کا کام رک جائے گا۔اس پر مولوی صاحب کہنے لگے یہ درست ہے میرا فرض یہی تھا کہ میں آپ سے کہتا کہ آپ نے علیحدہ جماعت قائم کر کے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا ہے ورنہ اگر یہ بھی ہمارے ساتھ ملے رہتے تو ان کے اندر وہی بے حسی رہتی جو ہم میں پائی جاتی ہے۔اب دیکھو یہ ایک غیر احمدی کی اپنی شہادت ہے اور تم اس شہادت کا نمونہ ہر جگہ