انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 238

انوار العلوم جلد 26 238 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ز آدمی 9 فٹ میں نماز پڑھ سکتا ہے۔اس طرح یہ مسجد تین ہزار افراد کے لئے کافی ہوگی اور اگر ساتھ والی 21 کنال زمین مل گئی تو وہ اس سے بھی پانچ گنا زیادہ ہو گی۔یہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دیا ہے۔کہاں یہ حالت تھی کہ لاہور میں صرف میاں چراغ الدین صاحب کا خاندان احمدی ہوا تھا یا اب لاہور میں ہزاروں کی جماعت موجود ہے اور ایک کی بجائے دو مسجدیں بن چکیں ہیں۔یہ ایک معجزہ ہے جو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔دوسرے لوگ خواہ کتنا مذاق کریں مگر تم میں سے ہر ایک عورت کہ سکتی ہے کہ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ معجزہ دیکھا ہے کہ ایک وقت تھا ہمارے علاقہ میں کوئی احمدی نہیں تھا یا تھا تو ایک آدھ تھا مگر اب ہم وہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص پیرانامی تھا جو نیم پاگل سا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس رہا کرتا تھا۔اور آپ اسے کھانا وغیرہ دے دیا کرتے تھے۔آپ بعض اوقات اسے بٹالہ بلٹیاں چھڑانے کیلئے بھیج دیا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی عادت تھی کہ وہ بٹالہ اسٹیشن پر روزانہ جاتے اور اگر انہیں کوئی ایسا آدمی مل جاتا جو کہتا میں نے قادیان جانا ہے تو وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے اور مکہ کے مخالفوں کی طرح کہتے میں تو مرزا صاحب کا بچپن کا دوست ہوں مجھ سے پوچھو بات کیا ہے۔اس نے تو محض ایک دکان بنائی ہوئی ہے۔اگر ایمان بچانا ہو تو واپس چلے جاؤ۔وہاں تمہیں کفر والحاد اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ایک دن حسب عادت مولوی صاحب اسٹیشن پر گئے تو اُس دن اتفاقاً انہیں قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا۔پیرا پلٹی چھڑانے گیا ہوا تھا وہ الگ بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین اُسے جاملے۔پیرے نے واپس آکر بتایا کہ میں بلٹی کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے پیرے! سناؤ تم نے قادیان میں کیا دیکھا ہے کہ وہاں بیٹھے ہو مفت میں تمہارا ایمان خراب ہو رہا ہے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ مولوی صاحب ! میں پڑھا ہوا تو نہیں ہوں میں نے ایک چیز دیکھی ہے جو آپ کو بتا دیتا ہوں۔میں اکثر بلٹیاں چھڑانے بٹالہ آیا کرتا ہوں اور