انوارالعلوم (جلد 26) — Page 221
انوار العلوم جلد 26 221 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔اور ہر سال پچاس مساجد تعمیر کی جاسکتی ہیں۔اور اگر ہم ہر سال پچاس مساجد تعمیر کر سکیں تو پانچ سال کے عرصہ میں اڑھائی سو مساجد بن سکتی ہیں۔اگر اڑھائی سو مساجد یورپ میں تعمیر ہو جائیں تو اس کے چپہ چپہ پر خدا تعالیٰ کی تکبیر کی صدا بلند ہوسکتی ہے۔اب کوئی مبلغ باہر سے آتا ہے یا یہاں سے جاتا ہے تو تم الله اکبر کے نعرے لگاتے ہو لیکن ان نعروں میں وہ زور نہیں پایا جاتا جو اُس اللہ اکبر کی آواز میں ہوگا جو یورپ کی مساجد سے بلند ہوگی اور سب عیسائی بھی زور سے کہیں گے کہ اللهُ اَكْبَرُ۔جب ان مساجد سے مؤذن اللهُ أَكْبَرُ کی صدا بلند کریں گے اور ان کے ساتھ ساتھ قصبات والے بھی اللہ اکبر کہیں گے تو بیک وقت سارا یورپ اللہ اکبر کی آوازوں سے گونج اٹھے گا اور عیسائی اپنی زبان سے کہیں گے کہ اب عیسائیت کمزور ہو گئی ہے۔اور یہ بات تو میں نے پانچ مساجد کے متعلق بیان کی ہے لیکن جب یورپ میں اڑھائی سو مساجد تعمیر ہو جائیں گی تو یورپ کے سارے کناروں تک نعرہ ہائے تکبیر کی صدائیں بلند ہوں گی۔اور وہ نعرہ ہائے تکبیر ایسے ہوں گے کہ ایک مسجد کی آواز دوسری مسجد تک پہنچے گی اور پھر قریب کے علاقہ میں پھیلتی جائے گی اور یورپ والے کہیں گے کہ اب اسلام غالب آ گیا ہے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔اُن کا سارا غرور جاتا رہے گا اور وہ خود اقرار کریں گے کہ اب اسلام غالب آچکا ہے۔تب وہ زمانہ آجائے گا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ قو میں اسلام میں داخل ہوں گی، 8 پھر ہم امریکہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور وہاں ہزار دو ہزار مساجد بنائیں گے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ آواز در آواز پھیلتی چلی جائے گی۔تم دیکھ لور بوہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن یہاں جب مسجد مبارک میں مؤذن کی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ سارے شہر میں پھیلتی ہے اور جب دوسری مساجد سے بھی اذان کی آوازیں اٹھتی ہیں تو پورے شہر کے اندر زندگی اور بیداری کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔اسی طرح جب یورپ اور امریکہ کی ہزاروں مساجد میں اذانیں ہوں گی تو عیسائی سمجھ لیں گے کہ اب عیسائیت مرگئی اور پھر یہ نور آہستہ آہستہ تمام