انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 100

انوار العلوم جلد 26 100 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت مولوی عبدالجبار کے ایک بھائی احمد بن عبداللہ غزنوی کا فتویٰ اپنے متعلق کتابوں میں نقل کیا ہے کہ وہ کیسا بد گو آدمی تھا۔اس نے جو فتوی دیا تھا وہ کتاب البریہ صفحہ 120 پر درج ہے۔اس میں لکھا ہے کہ قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔۔۔۔یہ ( یعنی مسیح موعود ) بدترین خلائق ہے ( یعنی چوہڑوں چماروں سے بھی بدتر ہے ) تمام لوگوں سے ذلیل تر آگ میں جھونکا جائے گا ( یعنی جہنم میں پڑے گا )۔50 یہ تو ایک بھائی کا فتویٰ تھا۔اب مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ (مولوی عبد الواحد غزنوی کا فتویٰ سن لو جس کے ساتھ مل کر منان کوششیں کر رہا ہے اور جس کا بیٹا بنگال کے وفد کو لینے کے لئے بارڈر پر گیا تھا۔مولوی عبدالواحد بن عبد اللہ غزنوی کا فتویٰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنة جلد 13 میں صفحہ 202 پر شائع کیا ہے۔یہ دو بھائیوں نے مل کر فتویٰ دیا تھا۔ایک مولوی عبدالواحد نے جو مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ ہیں اور ایک ان کے دوسرے بھائی مولوی دو عبدالحق نے۔اس میں لکھا ہے کہ : یہ مسئول عنه شخص ( یعنی حضرت مسیح موعود ) اپنی ابتدائی حالت میں اچھا معلوم ہوتا تھا۔دین کی نصرت میں ساعی تھا۔اللہ تعالیٰ اس کا مددگار تھا۔دن بدن فَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ کا مصداق بنا جاتا تھا۔لیکن اس سے اس نعمت کی قدردانی نہ ہوئی۔نفس پروری و زمانہ سازی شروع کی۔زمانہ کے رنگ کو دیکھ کر اس کے موافق کتاب وسنت میں تحریف والحاد و یہودیت اختیار کی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا فَيُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ کا مصداق بن گیا۔51