انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 99

انوار العلوم جلد 26 99 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت جاری تھی اور یہ محض غلط بیانی ہے کہ اماں جی کی وفات پر کسی ہمدردی کے خط پر اس سے تعلق پیدا ہوا۔یہ سازش عام نہیں تھی بلکہ سلسلہ کے خلاف لٹریچر شائع کرنے کی سازش تھی جس میں غیر احمدی بھی شامل تھے۔ہماری جماعت کے لوگ چونکہ عموماً باہر کے لوگوں سے واقف نہیں ہوتے اس لئے وہ سمجھتے نہیں کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کون ہیں؟ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی حضرت خلیفہ اول کی پہلی بیٹی کے بیٹے ہیں۔جب آپ وہابی تھے تو آپ نے وہابی تعلق کی وجہ سے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی رحمتہ اللہ علیہ جو نہایت بزرگ اور ولی اللہ تھے اور افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے اُن کے بیٹے مولوی عبدالواحد سے اپنی لڑکی امامہ کا بیاہ کر دیا۔امامہ کے بطن سے تین بچے پیدا ہوئے۔ایک آمنہ بڑی لڑکی پیدا ہوئی دوسرے محمد ابراہیم بیٹا پیدا ہوا اور تیسرے محمد اسماعیل پیدا ہوا جو اب مولوی اسماعیل غزنوی کہلاتا ہے۔ابراہیم غزنوی بچپن میں میرے ساتھ کھیلا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے پاس جو اس کے نانا تھے آیا کرتا تھا۔بہت نیک اور شریف لڑکا تھا۔یعنی وہ اپنے چھوٹے بھائی کی بالکل ضد تھا۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بڑا ہوتا تو احمدی ہوتا یا باپ کے اثر کے نیچے نہ ہوتا مگر بہر حال وہ ایک نیک لڑکا تھا۔اس خاندان کی سلسلہ سے عداوت بہت پرانی ہے۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جو ملہم تھے انہوں نے ایک خواب دیکھی تھی جو حافظ محمد یوسف صاحب نے جو امرتسر کے ایک عالم تھے اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مریدوں میں سے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچادی۔وہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتابوں میں چھپی ہوئی ہے۔وہ خواب یہ تھی کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کا نوراتر امگر میری اولا د اس سے محروم رہی 49 جب یہ خواب شائع ہوئی تو مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی اولاد کو غصہ لگا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑے بڑے فتوے دیئے۔اس وقت اس خاندان کے لیڈر مولوی داؤ د غزنوی ہیں جو 1953ء کے ایجی ٹیشن میں جس میں سینکڑوں احمدی مارے گئے تھے لیڈر تھے۔یہ مولوی داؤ د غزنوی مولوی عبد الجبار کے بیٹے ہیں جو مولوی عبدالواحد کے بڑے بھائی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے