انوارالعلوم (جلد 25) — Page 21
انوار العلوم جلد 25 21 سیر روحانی (8) کے سارے افیون کھا کر سوتے ہیں اور تم بڑے خوش ہو کہ ہم نے خلیفہ جو مان لیا ہے۔بس جو خلیفہ مان لیا اب وہی کرے۔خلیفہ انسان ہے آخر کیا چیز ہے۔کون سی صورت ہے اس کے لئے کہ وہ ہر ایک معاملہ میں دخل دے اور ہر ایک معاملہ میں سوچے۔پھر دوسرے یہ کہ اس کا دخل دینا مناسب بھی نہیں۔ہر دنیوی کام میں اگر وہ دخل دینے لگ جائے تو پھر قوم میں جو تربیت اور تنظیم پیدا ہوتی ہے وہ ختم ہو جائے۔کیونکہ ہم یہ تو امید نہیں کر سکتے کہ ہمیشہ ہی تم کو ایسے خلفاء ملتے رہیں گے جو تنظیمی قابلیت بھی اپنے اندر رکھتے ہوں۔ہو سکتا ہے کہ ایک وقت میں محض مذہبی حیثیت کا آدمی تمہیں مل جائے کیونکہ یہی اُس کا اصل کام ہے تو پھر اگر تم نے ایک عہدہ دار پر انحصار رکھنا ہے اور عہدہ دار بھی ایسا جس کو ہٹانے کا بھی تم کو اختیار نہیں تو پھر تو تمہارا بیڑا غرق ہوا کیونکہ ایسے آدمی پر تم نے کام کا انحصار رکھا جس کو تم ہٹا سکتے نہیں اور یہ کام اس کا ہے نہیں اور سمجھ تم یہ رہے ہو کہ وہ کرے اور وہ کر سکتا نہیں۔تو پھر اس سے زیادہ تمہاری تباہی کی یقینی خبر اور کیا ہو گی۔پس نو جوانوں کو چاہیے کہ وہ ادھر آنے کی کوشش کریں اور کم سے کم جب تک نئے نہ آئیں اُس وقت تک پینشنز ہی آتے رہیں۔پچپن سال پر پنشن مل جاتی ہے اور چار پانچ سال سلسلہ کی خدمت کر لیں۔ایک بات میں بھول گیا تھا۔وہ اختر صاحب نے شکر ہے یاد دلا دی۔یہ بات میں نے اُن کے ذمہ لگائی تھی اور اُن کو کہا تھا کہ تقریر کے وقت یاد دلا دیں۔شکر ہے انہوں نے تقریر ختم ہونے سے پہلے یاد دلا دیا۔انہوں نے جب سنا کہ میں ناظر الدیوان ہوں تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ کام مجھے کر دینا چاہیئے۔میں نے پچھلے سال تحریک کی تھی کہ لوگ اپنی زائد آمد پیدا کر کے سلسلہ کے لئے دیں تاکہ ان پر بھی بوجھ نہ ہو اور سلسلہ کی مشکلات جو تبلیغ اسلام کی ہیں وہ دور ہوں اور ان میں امداد ملے۔ایک دوست عبد العزیز صاحب مغل پورہ گنج کے ہیں۔انہوں نے تیس روپے کل مجھے دیئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ میں نے آپ کے اُس کہنے کے مطابق زائد کام کر کے آمد پیدا کی ہے جو میں چندہ کے طور یر پیش کرتا ہوں۔