انوارالعلوم (جلد 25) — Page 20
انوار العلوم جلد 25 20 سیر روحانی (8) ہوتی جارہی ہے۔جلسہ پر بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ یہ تو حضور ہی کا بچہ ہے ہم نے وقف کیا ہے۔مگر میں کیا خوش ہو تا جتنے وقف شدہ بچے میرے سامنے پیش ہوئے چار چار سال کے تھے۔تو کون پچیس سال تک زندہ رہے اور ان کا انتظار کرے کہ یہ آکر کام سنبھالیں گے۔پچیس سال کے بعد تو وہ کام کے قابل ہوں گے پھر کم سے کم بیس سال ان کو تجربہ کے لئے چاہییں۔آدمی پنتالیس سال میں ہی جا کر مکمل بن سکتا ہے۔کسی شاعر نے کہا ہے۔کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ان لوگوں کے وکیل بننے کے قابل ہونے تک کس نے زندہ رہنا ہے اور کس نے ان کا کام دیکھنا ہے۔تو جماعت کو چاہیے کہ اس طرف توجہ کرے۔ایک تو یہ کہ وہ اپنے اندر احساس پیدا کرے۔اب تک کبھی جماعت نے احساس نہیں کیا کہ آخر ہم اتنا روپیہ جو خرچ کرتے ہیں ان سے پوچھیں تو سہی کہ یہ کام کیا کرتے ہیں۔کام سوائے خط و کتابت کے اور کوئی نہیں ہوتا۔ابھی میں نے اختر صاحب کو رکھا ہے ایک نیا نام ان کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔دیکھئے وہ بیل منڈھے چڑھتی ہے کہ نہیں۔ناظر الديوان ان کا عہدہ مقرر کیا گیا ہے یعنی وہ ناظروں کے کام کو چیک کریں گے۔ان کو میں نے کہا ذرا معائنہ کرو اور دیکھو کہ نظارت امور عامہ کیوں بنائی گئی تھی؟ اور آیا جس غرض کے لئے امور عامہ کی نظارت بنائی گئی تھی اس کا کوئی کام انہوں نے کیا؟ نظارت اعلیٰ کیوں بنائی گئی تھی؟ نظارت اعلیٰ کے فرائض میں سے ہے کہ ساری نظار توں کو چیک کرے اور ہر مہینے ہر نظارت کا وہ معائنہ کرے۔لیکن واقع یہ ہے ہر تیسرے مہینے چیک کرنا تو بڑی بات ہے ہر سال میں بھی اگر ثابت ہو جائے، ہر دو سال کے بعد بھی ثابت ہو جائے، ہر پانچ سال کے بعد بھی ثابت ہو جائے، ہر دس سال کے بعد بھی ثابت ہو جائے تو سجدہ شکر بجالاؤ۔کیونکہ میرا علم یہ ہے کہ پچھلے چالیس سال میں انہوں نے کبھی کوئی معائنہ نہیں کیا۔جہاں افسروں کا یہ حال ہو کہ وہ معائنہ ہی نہیں کرتے اپنے ماتحت دفتروں کا، تو ماتحت دفتر کہہ دیتے ہیں " تور اشنان سو موراشنان"۔وہ اگلے کو کہہ دیتا ہے۔تور اشنان سو موراشنان"۔آخر ہوتے ہوتے کلر کوں تک بات آجاتی ہے۔باقی سارے