انوارالعلوم (جلد 25) — Page 334
انوار العلوم جلد 25 334 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق کہ میرے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق جائے گا۔میں ایک دفعہ نہیں دو دفعہ اپنی خلافت کے زمانہ میں دمشق گیا ہوں اور اب میں دلیری سے کہہ سکتا ہوں کہ میں کسی انسان کی دی ہوئی خلافت پر خواہ وہ کتنا بڑا انسان کیوں نہ ہو لعنت بھیجتا ہوں۔یا تو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی تردید کرنی ہو گی جنہوں نے کہا کہ مسیح دمشق جائے گا یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تردید کرنی ہو گی۔جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ میرے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق جائے گا۔اللہ رکھا کی اس بات کو سن کر کہ میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو لکھا ہے کہ ہم تو موجودہ خلیفہ کے مرنے پر آپ کی بیعت کریں گے۔غلام رسول 35 نے کہا نہیں ہم تو میاں عبد المنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔(اگر عبد المنان بھی اس سازش میں شریک ہے تو تم یا درکھو کہ عبد المنان اور اس کی اولاد قیامت تک خلافت کو حاصل نہیں کرے گی خواہ کروڑوں غلام رسول ان کے لئے کوشش کرتے ہوئے اور ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے مر جائیں اور اپنے پیر گھسا دیں اور اپنی ناک رگڑ دیں) پھر غلام رسول نے کہا کہ وہ دو سال کے بعد اتنی طاقت پکڑ جائے گا کہ ربوہ آکر ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دے گا۔(دو سال کے بعد کی بات تو خدا ہی جانتا ہے یہی بڑ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ماری تھی اور جب اس کا ہی بیٹا اس کے سامنے تلوار لے کر کھڑا ہو گیا تو اس نے کہا میں مدینہ کا سب سے ا ذلیل انسان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے معزز انسان ہیں 12 اس کا دعویٰ کرنا تو گذاب ہونے کی علامت ہے وہ اب ربوہ آکر دکھا دے بلکہ اپنے گاؤں جا کر دکھا دے مگر ایسی باتیں تو حیا دار لوگوں سے کہی جاتی ہیں بے حیالوگوں پر ایسی باتوں کا کیا اثر ہوتا ہے۔وہ پھر یہی کہہ دے گا کہ یہ طاقت تو مجھے دو سال کے بعد حاصل ہو گی جیسا کہ مسیلمہ نے کہا تھا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بعد وارث نہ بنایا تو میری فوج حملہ کر کے مدینہ کو تباہ کر دے گی۔13 اب وہ مسیلمہ خبیث