انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 333

انوار العلوم جلد 25 333 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات ذریعہ وہ معلوم ہو گئے ہیں) اس کے بعد غلام رسول 35 نے اللہ رکھا سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ حضرت صاحب کی بیماری دور نہیں ہو رہی اور ان کے بعد کس شخص کی بیعت کی جائے۔اللہ ر کھانے جواب میں کہا کہ میں نے متعد دبار میاں بشیر احمد صاحب کو خطوط لکھے ہیں کہ تم تینوں بھائی مل کر کچھ صدقہ دو تب تم صحت یاب ہو سکتے ہو۔رقم غالباً 3500 کہی گئی تھی (غالباً مراد یہ ہے کہ 3500 اللہ رکھا کو دو ورنہ انہی دنوں میں میں قریباً سات سو ایکڑ نہری زمین انجمن کو دے چکا ہوں۔جس کی کم سے کم قیمت بھی ایک لاکھ چالیس ہزار بنتی ہے) اور میاں بشیر احمد کو یہ بھی لکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات ہو گئی تو ہم آپ کی بیعت کریں گے میاں ناصر احمد صاحب کی بیعت کرنے کے لئے ہم ہر گز تیار نہیں اور اب تک مجھے اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ناصر احمد کے خلیفہ ہونے کا کوئی سوال نہیں۔خلیفے خدا بنایا کرتا ہے۔جب اس نے مجھے خلیفہ بنایا تھا تو جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں کی گرد نہیں پکڑوا کر میری بیعت کروا دی تھی۔جن میں ایک میرے نانا دوسرے میرے ماموں ایک میری والدہ ایک میری نانی ایک میری تائی اور ایک میرے بڑے بھائی بھی شامل تھے۔اگر خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ ناصر احمد خلیفہ ہو تو ایک میاں بشیر کیا ہزار میاں بشیر کو بھی اس کی بیعت کرنی پڑے گی اور غلام رسول جیسے ہزاروں آدمیوں کے سروں پر جو تیاں مار کر خدا ان سے بیعت کروائے گا لیکن ایک خلیفہ کی زندگی میں کسی دوسرے خلیفہ کا خواہ وہ پسندیدہ ہو یا نا پسندیدہ نام لینا خلاف اسلام یا بے شرمی ہے۔صرف خلیفہ ہی اپنی زندگی میں دوسرے خلیفہ کو خلافت کے لئے نامزد کر سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اول نے 1910ء میں مجھے نامزد کیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ بیماری سے بچ گئے اور خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے فیصلہ سے مجھے خلیفہ بنوایا۔اگر خدانخواستہ اُس وقت حضرت خلیفہ اول فوت ہو جاتے تو ان کی اولا د بڑھارتی کہ یہ خلافت ہمارے باپ کی دی ہوئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لعنت سے بچا لیا اور سورۃ نور کے حکم کے مطابق مجھے خود خلیفہ چنا اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ میں خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں کیونکہ