انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 577

انوار العلوم جلد 24 577 سال 1954ء کے اہم واقعات شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ ان کے سامان بکنے لگ گئے اور ہمارے سامان بند ہونے شروع ہو گئے۔ایک زمانہ وہ تھا اور وہ بھی کوئی بہت دور کا زمانہ نہیں الزبتھ کا زمانہ ہے۔(جو 1558ء سے 1603ء تک تھا) میں سمجھتا ہوں شاید چار سو سال اس کو ہوئے ہیں میں جب انگلستان میں گیا تو میں نے خود برائٹن میں ایک عمارت بنی ہوئی دیکھی تھی۔وہاں کی میونسپل کمیٹی نے ہمارے اعزاز میں ایک جلسہ کیا تھا اور چونکہ وہ عمارت میونسپل کمیٹی کے چارج میں ہے اس لئے انہوں نے وہ عمارت بھی ہمیں دکھائی۔جب الزبتھ پر حملہ ہوا ہے تو اس نے ترکوں کے بادشاہ کو لکھا کہ میں ایک غریب عورت ہوں اور کمزور ہوں مجھ پر سپین والوں نے حملہ کیا ہے۔مسلمان بڑے بہادر ہوتے ہیں اور عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اپنی فوج بھیجیں اور میری مدد کریں چنانچہ ترک بادشاہ نے ایک جرنیل اور اس کے ساتھ کچھ اور بڑے افسر بھیجے کہ جا کر جائزہ لو کہ ہم اس کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔جب وہ وہاں پہنچے تو چونکہ وہ اس کے بلاوے پر آئے تھے اس نے ان کے لئے وہیں سے انجینئر بلوا کے مسجد تعمیر کروادی۔مسجد کا خاص گنبد وغیرہ نہیں تھا کمرہ بنا ہوا تھا۔جب انہوں نے یہ عمارت ہمیں دکھائی تو ہم نے فوراً پہچان لیا اس میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ پھول بنے ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ کہنے لگے دیکھئے کیسے اچھے پھول بنے ہیں۔ہم نے کہا یہ پھول نہیں یہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا ہوا ہے۔غرض اس پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا ہوا تھا گویا اس وقت یہ حالت تھی کہ اسلامی شوکت اور اس کی طاقت کے مقابلہ میں یورپ کے لوگ بالکل زیر ہوتے تھے اور الزبتھ جو اتنی مشہور ہے اس نے ترکوں سے امداد کی درخواست کی تھی لیکن بعد میں وہ زمانہ آیا کہ کچھ بھی نہ رہا۔انگریزوں نے اور امریکیوں نے اور دوسری قوموں نے ہر جگہ پر اس طرح مسلمانوں کے ملکوں پر قبضہ کیا کہ کسی جگہ بھی ان کی کوئی عزت اور رتبہ باقی نہ رہا۔ساری وجہ اس کی یہی تھی کہ اخلاق نہ رہے۔