انوارالعلوم (جلد 24) — Page 576
انوار العلوم جلد 24 576 سال 1954ء کے اہم واقعات سو گولہ و بارود اُن کے ترقی کر جانے کے بہت بعد نکلا ہے۔انہوں نے تو ترقی آج سے سات سو سال پہلے کی ہوئی تھی۔اُس وقت گولہ و بارود تھا ہی نہیں۔گولہ و بارود پہلے مسلمانوں نے نکالا پھر ادھر منتقل ہو کر گیا ہے لیکن سمجھا یہی جاتا ہے کہ یورپ نے اپنی فوجوں اور گولہ و بارود کے ذریعہ سے ترقی کر لی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے جب یورپ نے شکست کھائی تو انہوں نے غور کیا کہ مسلمان کیوں جیتا ہے۔مسلمان کے پاس گھوڑا ہے ہمارے پاس بھی گھوڑا ہے ، اس کے پاس تلوار ہے ہمارے پاس بھی تلوار ہے، مسلمان کے پاس فوج ہے ہمارے پاس بھی فوج ہے۔پھر جیتتا کیوں ہے؟ تو انہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمان کے اخلاق اعلیٰ ہیں انہوں نے کہا چلو ہم بھی وہی اخلاق اختیار کریں پھر جیتیں گے۔ادھر مسلمان جوں جوں بڑھتے گئے انہوں نے سمجھا ہماری فوج دس ہزار ہے اُن کی فوج ایک ہزار ہے ہم اعلیٰ ہیں۔فوج کی وجہ سے انہوں نے اخلاق کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور اُنہوں نے اخلاق کو پکڑنا شروع کر دیا۔چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ جب اسلامی لشکر نے حملہ کیا تو بادشاہ نے ایک آدمی بھیجا کہ ذرا ان کے لشکر کا حال دیکھو اور جا کے اندازہ لگاؤ کہ ان کی کتنی طاقت ہے۔اس نے واپس آکر کہا کہ تم نہیں جیت سکتے کیونکہ یہ لوگ دن کو لڑتے ہیں اور رات کو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔یہ جو ان کا کیریکٹر ہے کہ اپنے آپ کو انہوں نے اسلام میں محو کر دیا ہے اور نماز اور روزے اور حج اور زکوۃ یہ سارے کے سارے کام لڑائیوں میں بھی جاری ہیں یہ بتارہے ہیں کہ ان کا کیریکٹر اعلیٰ ہے تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔چنانچہ یہی ہوا۔تو یورپ کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ان کے اخلاق بالا ہیں۔انہوں نے اخلاق میں نقل کرنی شروع کر دی۔ہمارے آدمیوں نے آہستہ آہستہ یہ سمجھ لیا کہ اپنی تعداد کی وجہ سے اور اپنے روپیہ کی وجہ سے اور اپنی فوجوں کی وجہ سے ہم جیتے ہیں۔تو جب فوج کے پیچھے اخلاق نہ رہے تو اس نے لڑنا کیا تھا اور جب تجارت کے پیچھے اخلاق نہ رہے تو اس نے جیتنا کیا تھا۔تجارتوں میں کھوٹ شروع ہوئے۔جب کھوٹ شروع ہوئے تو غیر ملکوں سے جو روپیہ آتا تھا وہ وہاں سے آنارُک گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تجارت بند ہونی