انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 578

انوار العلوم جلد 24 578 سال 1954ء کے اہم واقعات اصل بات یہ ہے کہ دولت کی فراوانی ہمیشہ باہر سے آتی ہے یہ جو لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ دولت اندر سے پیدا ہوتی ہے وہ غلطی کرتے ہیں۔ایک حد تک قومی معیار دولت کا اندر سے پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد جو دولت کی فراوانی ہوتی ہے ہمیشہ باہر سے آتی ہے۔دولت کے متعلق یہ نظر یہ بالکل غلط ہے جو آجکل کے کالجوں کے پڑھے ہوئے عام طور پر پیش کرتے ہیں۔دولت کے متعلق کوشش کی جارہی ہے جیسا کہ یورپ والے اور اقتصادیات کے ماہر کر رہے ہیں کہ ساری دنیا ایک سٹینڈرڈ پر ہو جائے اور وہی ایک ہائر سٹینڈرڈ سب کو مل جائے۔روس بھی یہی لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے، امریکہ والے بھی یہی دھوکا دے رہے ہیں، انگریز بھی یہ دھوکا دے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم اپنی ڈیما کریسی سے ساری دنیا کو اونچا کر دیں گے اور ایک معیار پر لے آئیں گے۔روس والا کہتا ہے ہم اپنے کمیونزم کے ساتھ سب کو اونچا کر دیں گے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔یہ ناممکن بات ہے کہ ساری دنیا کا وہ معیار ہو سکے جو امریکہ کا ہے۔ساری دنیا کا اگر ایک معیار کرنا ہو گا تو امریکہ کو دس ڈگری نیچے گرانا ہو گا پھر جاکے دنیا کا معیار ایک ہو۔سکتا ہے کیونکہ ترقہ 7 کی جو ترقی ہے اس کی اقتصادی لحاظ سے ایک حد ہوتی ہے۔ایک دفعہ یہاں عالمگیر بنگ جو یو این او (U۔N۔O) نے بنایا ہے۔ان کا ایک بنکوں کا وفد پاکستان اور ہندوؤں کا معائنہ کرنے کے لئے آیا۔ان میں سے ایک بڑا افسر مجھے بھی ملنے کے لئے آیا اور مجھ سے اس کی باتیں ہوئیں اب غالباً وہ اور بھی بڑے عہدہ پر ہو گیا ہے۔اخباروں میں بعض دفعہ اس کا نام چھپا کرتا ہے بہر حال جب اس کی باتیں ہوئیں تو میں نے اس سے کہا کہ آپ دورہ کیوں کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کہ ہم اس لئے دورہ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ امریکہ کا اور یونائیٹڈ نیشنز کا یہ فیصلہ ہے کہ سارے غریب ملکوں کو اونچا کیا جائے اور ان کی مالی مدد کی جائے۔میں نے کہا میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ آپ لوگ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ سارے ملکوں کا ایک معیار کر کے ہر ایک کی دولت کا معیار امریکہ اور انگلینڈ والا کر دیں لیکن مجھے تو یہ بات بالکل جھوٹی نظر آتی ہے۔جہاں تک میں نے اقتصادیات کا مطالعہ کیا ہے یہ ناممکن ہے۔بڑی بات تو یہی