انوارالعلوم (جلد 24) — Page 475
انوار العلوم جلد 24 475 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار یہ خیال کر لیا تھا کہ ان کا علوم کا پڑھنا جرم ہے چند دن ہوئے بنگال سے ایک وفد یہاں آیا اس کے بعض ممبروں نے بتایا کہ ابتداء میں مولویوں نے ہی کہا تھا کہ انگریزی پڑھنا جرم ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اس زبان کا بائیکاٹ کر دیا اور ہندوؤں اور دوسری اقوام نے اس زبان کو سیکھا اس طرح ہندو مسلمانوں سے آگے ہیں گویا اسلام کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا موجب ہمارے مولوی ہی ہیں اگر مولوی لوگ انگریزی زبان کی تعلیم کے خلاف فتویٰ نہ دیتے تو مسلمان بھی ابتداء میں ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے او ر وہ بہت زیادہ ترقی کر جاتے لیکن انہوں نے اس قدر سختی کی کہ کیمیا سیمیا۔جغرافیہ اور دوسرے تمام علوم انہوں نے ممنوع قرار دے دیئے۔ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ سے ملے اور آپ نے سوال کیا کہ اے خدا اگر آپ دنیا میں ہوتے تو کیا کرتے اور کونسی چیز خوراک کے طور پر استعمال کرتے۔خدا تعالیٰ نے جواب دیا۔میں خدا ہوں میں نے کیا کھانا تھا۔مجھے خوراک کی احتیاج نہیں پھر مجھے انسان کی طرح دنیوی کام کر نیکی بھی ضرورت نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر بھی بتائیے کہ اگر آپ دنیا میں ہوتے تو کیا کام کرتے اور کیا چیز بطور خوراک استعمال کرتے۔اس پر خدا تعالیٰ نے کہا اگر میں دنیا میں ہوتا تو دودھ چاول کھاتا اور ردی کاغذ چنتا۔گویا ہمارے مولویوں کے نزدیک دنیوی علوم کا سیکھنا تو جرم ہے۔اور چوہڑوں کا کام کرنا یعنی زمین پر پڑے ہوئے ردی کاغذ چننا ایسا کام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ دنیا میں آتا تو نَعُوذُ بِاللہ وہ بھی یہی کام کرتا۔یاد رکھو دنیوی علوم کا سیکھنا جرم نہیں بلکہ ان کا سیکھنا بہت ضروری ہے۔قرآن کریم ان سب علوم کی تائید کرتا ہے۔خدا تعالیٰ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ 4 کہہ کر تاریخ اور جغرافیہ کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اسی طرح کہتا ہے تم اسراف سے کام نہ لو بلکہ اقتصاد کو ملحوظ رکھو۔یہ کام بغیر حساب کے کس طرح ہو سکتا ہے پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ تم ستاروں سورج اور چاند کی گردش کی طرف دیکھو اور یہ کام علم ہیئت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پھر قرآن کریم نے سائیکالوجی کو بار بار پیش کیا ہے کہتا ہے اَفَلَا تَعْقِلُونَ 5 اسی طرح نطق