انوارالعلوم (جلد 24) — Page 474
انوار العلوم جلد 24 474 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار ہمارے ہاں کوئی علاج معالجہ کا کام کرے تو اسے حکیم کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے بعض نسخے معلوم کر لئے ہیں اور چونکہ اس کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔اس لئے وہ ان نسخوں کے ذریعہ روزی کما لیتا ہے حالانکہ حکیم کا لفظ یونانیوں نے ایجاد کیا تھا اور وہ اس شخص کے متعلق حکیم کا لفظ استعمال کرتے تھے۔جو سارے علوم جانتا ہو اسے علم ہیئت بھی آتا ہو حساب بھی آتا ہو۔علم کیمیا بھی آتا ہو علم سیمیا بھی آتا ہو جغرافیہ میں بھی اسے دسترس حاصل ہو۔اسی طرح وہ فلسفہ منطق اور علم علاج میں بھی واقفیت رکھتا ہو۔اسے موسیقی بھی آتی ہو کیونکہ موسیقی بھی ایک قسم کا علم ہے۔ان سب علوم کے جاننے کے بعد کوئی شخص حکیم کہلاتا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول ایک ماہر طبیب تھے اور طبابت کے علاوہ آپ کو کئی اور علوم میں بھی دسترس حاصل تھی۔جب لوگ آپکو حکیم کہتے تھے تو آپ فرماتے تھے۔میں تو طبیب ہوں حکیم نہیں ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجھے بعض اور علوم بھی آتے ہیں لیکن میں نے علم موسیقی نہیں سیکھا اس لئے میں بھی حکیم نہیں کہلا سکتا کیونکہ حکیم اس شخص کو کہتے ہیں جو سب علوم جانتا ہو۔اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔جن کی طائرانہ نظر ہر علم پر پڑ جاتی ہے۔مثلاً برنارڈ شا کو ہر علم میں تھوڑی بہت دسترس حاصل تھی اور وہ ہر علم کو استعمال کرنا جانتا تھا۔پس علوم کا سیکھنا اسلام کا ہی ایک حصہ ہے۔آگے تم زیادہ علوم سیکھ لو یا کم۔یہ تمہارا کام ہے پس تعلیم الاسلام کالج کے یہ معنے نہیں کہ یہاں صرف قرآن کریم اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے یہ واقعات کے خلاف ہے یہاں دنیوی علوم بھی سکھائے جاتے ہیں۔جب تم یہ سمجھ کر حساب سیکھتے ہو کہ قرآن کریم نے کہا ہے۔حساب سیکھو تو یہ اسلام کا ہی ایک حصہ بن جاتا ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ میں قیامت کے روز ہر ایک سے حساب لوں گا اگر وہ حساب دان ہے تو ہم حساب کیوں نہ سیکھیں اگر جغرافیہ کا جاننا خدا تعالیٰ کے لئے کوئی عیب نہیں۔تو یہ ہمارے لئے بھی عیب نہیں۔اگر جغرافیہ اور حساب جاننے کے باوجود خدا تعالیٰ کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا تو ہمارا حساب اور جغرافیہ سیکھنا بھی ہمیں دین کے دائرہ سے خارج نہیں کرتا۔بد قسمتی سے مسلمانوں نے گزشتہ زمانہ میں