انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 476

انوار العلوم جلد 24 476 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار کو بیان کرتا ہے مثلاً فرماتا ہے مشرکین کہتے ہیں کہ ہم وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تمہارے باپ دادا بیوقوف بھی ہوں تو کیا پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو وہ کرتے چلے آئے ہیں۔اب دیکھو یہ نطق ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ تمہارے باپ دادا اپنی بیوقوفی کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے کیا تم بھی ان کے نقشِ قدم پر چل کر تباہ ہو گے۔غرض قرآن کریم ہر قسم کے علوم کو حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔جب بائی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ہائی سکول کا قیام فرمایا تو اس کا نام تعلیم الاسلام ہائی سکول رکھا آپ کی نقل میں ہم نے بھی اس کالج کا نام تعلیم الاسلام کالج رکھا ہے۔آپ نے جب سکول بنایا تو آپ کی غرض یہ تھی کہ اس میں صرف قرآن کریم اور حدیث ہی نہیں بلکہ دوسرے دنیوی علوم بھی پڑھائے جائیں گے اور اس طرح آپ دنیا کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ دوسرے علماء نے جو بعض دنیوی علوم کو غیر اسلامی کہا ہے غلط ہے۔سب چیز میں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں اس لئے جو چیز بھی دنیا میں پائی جاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔پھر اپنی ذات میں کوئی علم بُرا نہیں۔ہر علم سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں گو سارے علوم میں دسترس رکھنے والے زیادہ نہیں ہوتے مثلاً مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے بہت سے علوم عطا فرمائے ہیں مگر پھر بھی میں حکیم نہیں کہلا سکتا کیونکہ حکیم اس کو کہا جاتا ہے جو ہر فن اور ہر علم میں دسترس رکھتا ہو اور مجھے بعض علوم نہیں آتے مثلاً علم موسیقی بھی ایک علم ہے مگر میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ایکد فعہ ایک لطیفہ ہوا۔کسی نے موسیقی سیکھی تو میں نے کہا میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی خاص سر میں گاتا ہے اور اس میں وہ کوئی مضمون بیان کرتا ہے تو یہی چیز موسیقی کہلاتی ہے اگر آواز اور لہجہ اچھا ہوا تو وہ کانوں کو بھی اچھا لگتا ہے لیکن یہ جو تم صرف تاروں پر گاتے ہو اور اسے پکاراگ کہتے ہو یہ کیا ہے ؟ ایک شخص کہتا ہے ”گاڈ سیو دی کنگ (God save the king)خدا تعالی بادشاہ کو سلامت رکھے۔اب اگر تاروں پر اس فقرہ کو دہرایا جائے تو گاڑ سے کوئی دوسر الفظ بھی مراد لیا جا سکتا ہے اب ہم اس آواز سے کوئی دوسر ا لفظ کیوں مراد نہ لیں۔صرف یہ کیوں سمجھیں