انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 93

انوار العلوم جلد 24 ہے۔93 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب جس معقولیت کی بناء پر وہ اپنا مطالبہ پیش کرتے ہیں وہی معقولیت ان کی بات کو رڈ کرتی مولانا مودودی صاحب اپنے اس رسالہ میں اور ان کے ساتھی بعض دوسری تحریروں میں یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ صرف پنجاب اور بہاولپور میں ہی مقبول ہے باقی علاقوں میں اس مطالبہ کی اہمیت عوام پر روشن نہیں ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت نہ پنجاب اور بہاولپور میں اور نہ دوسرے صوبوں میں اس کی ضرورت محسوس کرتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ مطالبہ اکثریت کا نہیں اور اکثریت یہ نہیں چاہتی کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔کسی قوم کو اقلیت قرار دینے کی دوہی و جہیں ہو سکتی ہیں۔یا تو یہ کہ اکثریت اقلیت سے خائف ہو یا اقلیت اکثریت سے خائف ہو۔تیسری وجہ ایک ملک کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوئی نہیں ہو سکتی۔پس جب کہ خود مودودی صاحب کے نزدیک اکثریت احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی خواہش مند نہیں اور دوسری طرف احمدیوں کی طرف سے یہ مطالبہ پیش نہیں کہ ان کو اقلیت بنایا جائے کیونکہ ان کو مسلمانوں کی اکثریت سے خوف ہے بلکہ احمدی سمجھتے ہیں کہ اگر کو نسلوں میں ان کے نمائندے نہ بھی آئیں تو چونکہ حکومت نے سیاسی امور کا فیصلہ کرنا ہے اور سیاسی امور سارے ملک کے مشترک ہوتے ہیں اس لئے اگر باقی لوگوں سے مل کر وہ اپنے آپ کو منتخب نہیں کروا سکتے تو نہ سہی۔کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے لئے کونسل نشستوں کا علیحدہ مطالبہ کریں تو بتائیے کہ کونسی وجہ معقول احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی رہ جائے گی۔پس مودودی صاحب کا حق نہیں کہ وہ یہ سوال کریں کہ احمدیوں کو اقلیت نہ قرار دینے کا مسئلہ کونسی سیاسی انجیل کا ہے بلکہ باشندگانِ پاکستان کا حق ہے کہ وہ مودودی صاحب سے مطالبہ کریں کہ احمدیوں کو اقلیت بنوانے کا مطالبہ کو نسی سیاسی انجیل کا ہے ؟ یہ بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں کا حصہ قرار (16) آفر میں مودودی پانے کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پھیلی صاحب لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا حصہ قراریانے