انوارالعلوم (جلد 24) — Page 92
انوار العلوم جلد 24 92 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اس کی تائید نہ کی اور انگریزوں کی مذمت نہ کی۔حالانکہ خود مودودی صاحب کا یہ حال ہے کہ وہ 1947 ء تک پاکستان کے مخالف رہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا ارادہ ہی پاکستان آنے کا نہیں تھا۔وہ جانا چاہتے تھے کلکتہ مگر ایسے حادثات پیش آگئے کہ مجبوراً انہیں یہاں آنا پڑا اور اس وقت بھی ان کی جو جماعت ہندوستان میں ہے وہ ہندوستانی حکومت کی تعریف اور توصیف میں مشغول ہے مگر مودودی صاحب پاکستان میں آکر پاکستانی حکومت کی مذمت میں مشغول ہیں۔ایسے حقائق کی موجودگی میں مودودی صاحب کو یہ جرات کس طرح ہوئی کہ وہ اس قسم کی باتوں کو پیش کر سکیں۔کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو عقل سے بالکل کورا سمجھتے ہیں ؟ بلوچستان کے لوگوں کو (14) ایک اعتراض اُنہوں نے یہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں احمدی بنانے کا ارادہ کو احمدی بنانے کی کوشش کی جائے کیونکہ BASE کے بغیر تبلیغ نہیں پھیلتی۔144 نہ معلوم مولانا کو اس پر کیا اعتراض نظر آیا؟ احمدی جماعت ضرور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے تبلیغ کرنی ہے جس طرح آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کرنی ہے۔آپ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ آپ کی نیت ہے یا نہیں کہ سارے مسلمانوں کو جماعت اسلامی کا فرد اور صالح بنالیا جائے۔اگر آپ کی نیت یہ نہیں تو آپ کا ایمان ظاہر ہے اور اگر آپ کی یہ نیت ہے تو پھر وہی بات اگر احمدی چاہتے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے ؟ احمدیوں کو اقلیت بنوانے کا (15) پھر وہ لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ مطالبہ کو نسی سیاسی انجیل کا ہے احمدی تو اپنے آپ کو اقلیت نہیں بنوانا ا چاہتے۔پھر ان کو اقلیت بنوانے کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے اور اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ کون سی سیاسی انجیل کا ہے جب یہ مطالبہ معقول ہے تو پھر اس پر اعتراض کیا۔145 مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ معقولیت ہی کا نام سیاسی انجیل ہے