انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 587

انوار العلوم جلد 23 587 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔دلیل ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں اس طرح قادیان واپس نہیں لے جائے گا کہ ہم دیانت اور امانت اور حب الوطنی کے جذبات کو ترک کر کے وہاں جائیں بلکہ وہ ہمیں اس طرح وہاں لے جائے گا کہ ہم دین اور وطن اور حکومت کے لئے عزت کا موجب ہو کر وہاں جائیں گے۔اس قسم کے معترض محض تنگدلی، عناد اور تعصب کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں اور ان حقائق کے ماننے سے انکار کرتے ہیں جو ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ الہی جماعتوں کے ذریعہ دنیا میں پیش کئے جاچکے ہیں اور جب یہ حقائق کئی دفعہ الہی جماعتوں کے ذریعہ دُنیا میں پیش کئے جاچکے ہیں تو ان کے بارہ میں دھوکا نہیں کھایا جاسکتا۔پس یہ ایک دھکا تھا جو ہماری جماعت کے لئے پہلے سے مقرر تھا۔اُس وقت جماعت کے بعض لوگ ان لوگوں کو جنہیں میں قادیان سے باہر بھجوا رہا تھا مل کر یہ کہتے تھے یہ تو چند دن کی بات ہے، تھوڑے دنوں میں یہ حالت دُور ہو جائے گی ورنہ یہ ہو نہیں سکتا کہ قادیان ہمارے ہاتھ سے چلا جائے۔پھر ان چند دنوں کے لئے اس قدر پریشانی کی کیا ضرورت ہے۔قادیان کو چھوڑ کر جانا ایمان کی کمی کی علامت ہے مگر آج یہاں وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جو نظام کے ماتحت قادیان سے باہر آنے والوں پر معترض تھے۔وہ اُس وقت قادیان سے باہر آنا کمی ایمان کی علامت قرار دیتے تھے اور اب وہ خود بھی یہاں موجود ہیں۔گویا جو بات میں نے بتائی تھی وہ صحیح تھی اور جس امر کی طرف ان کا ذہن جارہا تھا وہ غلط تھا۔لازمی طور پر وہ لوگ جو آنے والوں کو کہتے تھے کہ تم کہاں جارہے ہو یہ تو چند دن کی پریشانی ہے قادیان ہمارے ہاتھ سے نہیں جاسکتا غلطی پر تھے اور ان کی یہ بات حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے الہاموں کی تشریح کو نہ سمجھنے اور ان سے اغماض کرنے کی دلیل تھی۔اب جب وہ اُن لوگوں کے سامنے یہاں بیٹھے ہیں جنہیں وہ قادیان سے آنے پر ملامت کرتے تھے تو انہیں کس قدر شرم آ رہی ہو گی اور ان کی طبیعت پر یہ بات کس قدر گراں گزر رہی ہو گی کہ وہ لوگ جنہیں وہ کہتے تھے کہ تم بیوقوف ہو کہ قادیان سے باہر جارہے ہو اب وہ انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ آپ کہاں آگئے۔بہر حال جس طرح یہ صدمہ جماعت احمدیہ کو پہنچا ہندوستان اور پاکستان کی کسی اور جماعت کو نہیں پہنچا۔