انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 586

انوار العلوم جلد 23 586 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔شبہ کرنے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں تھی اور یہ ماننے پر آمادہ نہیں تھی کہ قادیان سے انہیں ہجرت کرنا پڑے گی۔پس ان کا اس بنیاد پر یہ یقین رکھنا کہ چاہے کتنے ہی حوادث ہوں یہ جگہ ہمارے ہاتھ سے نہیں جائے گی ان کے ایمان کا ثبوت ہے لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ الہی کلاموں اور ان کی تشریحوں میں جو کبھی کبھی تعطل واقع ہو جایا کرتا ہے اور کبھی کبھی ان کی تعبیر وقتی طور پر مل بھی جایا کرتی ہے اس کے سمجھنے میں ان کی طرف سے کوتاہی واقع ہوئی۔جن دنوں قادیان پر حملے ہو رہے تھے اور ہم سب دعاؤں میں مشغول تھے میں ایک دن بہت ہی زور سے دُعا کر رہا تھا کہ مجھے الہام ہوا أَيْنَمَا تَكُوْنُوْا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِیعًا، میں نے اُس وقت سمجھ لیا کہ ہمارے لئے عارضی طور پر پراگندگی ضروری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی جاؤ میں کسی دن برکت اور یمن کے ساتھ تم سب کو واپس لے آؤں گا۔یہ آیت قرآن کریم میں ہے اور در حقیقت یہ مسلمانوں کے ہجرت کے بعد مکہ واپس آنے پر دلالت کرتی ہے اور اس میں دونوں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں۔ہجرت کی بھی اور ہجرت کے بعد مکہ واپس آنے کی بھی۔یعنی پہلے ہجرت ہوگی اور پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابی کے ساتھ مکہ واپس لائے گا۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ ہم قادیان واپس جانا چاہتے ہیں اس لئے ہم ہندوستان کے ساتھ سازش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ حب الوطنی کے خلاف تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ان کا یہ اعتراض ایسا ہی بے ہودہ اور ناپاک ہے جیسے کوئی کہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کفارِ مکہ سے سازش کر کے مکہ واپس آنا چاہتے تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خدا نے کہا تھا کہ میں تمہیں مکہ واپس لاؤں گا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم سازش کے ساتھ یا منت سماجت کر کے اور ذلیل ہو کر جاؤ گے بلکہ یہ کہا تھا کہ تم کامیاب و کامران ہو کر مکہ واپس جاؤ گے۔پس اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ واپس جانا آپ کی کامیابی و کامرانی اور عزت کی دلیل ہے تو یہی بات آپ کے خادموں کے لئے بھی عزت اور ان کے مقرب ہونے کی