انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 588

انوار العلوم جلد 23 588 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔پھر ہم نے یہ تجویز کی کہ ہم ایک نیا مرکز بنائیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ ہمیں نئے مرکز کی ضرورت ہو گی اور ایک رؤیا میں مجھے صاف طور پر نظر آیا تھا کہ ہم ایک نئی جگہ پر اپنا مرکز بنارہے ہیں۔اُس وقت بھی اسی اثر کے نیچے یہ چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ ہمیں نئے مرکز کی کیا ضرورت ہے؟ وہ لوگ ہمارے ساتھ قادیان سے نکل تو آئے تھے لیکن ابھی ان کے اندر یہ خیال باقی تھا کہ یہ چار پانچ ماہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال کی بات ہے اس کے بعد ہم قادیان واپس چلے جائیں گے۔لیکن میر انقطہ نگاہ یہ تھا کہ چاہے چار ماہ کے لئے ہو یا چار دن کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ایک مرکز قائم کرنا چاہئے۔تم ریل کے تین چار گھنٹے کے سفر میں بھی آرام چاہتے ہو اور سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ دین کی اشاعت اور دین کے آرام کا خیال نہ رکھا جائے۔اس کے لئے مرکز کی تلاش کیوں نہ کی جائے۔ایک پراگندہ جماعت اشاعت دین کا کام نہیں کر سکتی۔جو جماعت یہ خیال کرتی ہے کہ دس بارہ ماہ اشاعت دین کا کام نہ ہوا تو کیا ہوا؟ وہ جماعت جیتنے والی نہیں ہوتی شکست خوردہ ذہنیت کی مالک ہوتی ہے۔کام کرنے والی اور اپنے مقصد کو پورا کرنے والی جماعت وہ ہوتی ہے جو کہے کہ ہمارا ایک دن بھی ضائع نہیں ہونا چاہئے۔پھر میں نے ان لوگوں کو بتایا کہ دیکھو اتنی بڑی مصیبت ایک دو دن کے لئے نازل نہیں ہوا کرتی۔یہ ایک وقت چاہتی ہے۔جب کبھی خدا تعالیٰ نے کسی مصیبت کو جلدی سے ٹلا دینا ہو تو وہ اسی نسبت سے مصیبت کو نازل کرتا ہے۔دیکھو جب کسی کا باپ کرتا ہے ، ماں مرتی ہے یا کوئی اور رشتہ دار مرتا ہے جو خاندان کا نگران ہوتا ہے تو کتنی آفت آجاتی ہے۔اب خدا تعالیٰ نے یہ قانون نہیں بنایا کہ کوئی صبح مرے تو شام کو جی اُٹھے بلکہ اس کا یہ قانون ہے کہ وہ اگلے جہان میں زندگی پاتا ہے اور اس کے وہ رشتہ دار جو اس سے ملنے کی تمنار کھتے ہیں وہ بھی ایک لمبے عرصہ کے بعد وفات پا کر اس سے ملتے ہیں پہلے نہیں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو سات آٹھ سال کے بعد مکہ فتح ہوا اور اس کے بعد بھی خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ آپ مکہ میں نہیں بسے