انوارالعلوم (جلد 23) — Page 585
انوار العلوم جلد 23 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اس 585 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتاح۔۔۔نَحْمَدُهُ وَ نَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح کے موقع پر خطاب فرموده 19 نومبر 1953ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مایوسیاں اور ناکامیاں اُن لوگوں کو زیادہ شاق گزرتی اور اُنہیں زیادہ صدمہ پہنچانے والی ہوتی ہیں جو کامیابی کے زمانہ میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں کبھی مایوسی نہیں آئے گی۔اس وجہ سے ہجرت کا جو صدمہ ہماری جماعت کو پہنچ سکتا تھا اور پہنچا اس میں کوئی دوسری جماعت ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی ، شریک نہیں اور شریک نہیں ہو سکتی تھی۔میری توجہ تو اللہ تعالیٰ نے 1934ء سے ہی ادھر پھیر دی تھی کہ ہمارے لئے قسم کا کوئی صدمہ مقدر ہے۔چنانچہ یہ بات میرے1934ء کے خطبات میں موجود ہے جن میں یہ مضمون بڑے زور سے بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد اس کی تکرار رہی ہے لیکن ہماری جماعت نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ان کی کسی غلطی یا کمزوری ایمان کی وجہ سے تھا بلکہ یہ ان کی مضبوطی ایمان کی وجہ سے تھا۔ہاں یہ الہی کلاموں کی تشریح میں کوتاہی اور غفلت کا ثبوت ضرور تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں میں یہ بات موجود تھی کہ قادیان ترقی کرے گا، بڑھے گا، پھولے گا اور پھلے گا اور احمدیت اس جگہ راسخ ہو گی۔اس لئے جماعت احمد یہ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں اور پیشگوئیوں پر پورا یقین تھا اس میں