انوارالعلوم (جلد 23) — Page 533
انوار العلوم جلد 23 533 حقیقی اسلام غیروں سے بھی خراج تحسین حاصل کیا ہے اور جس پر عمل بڑا آسان ہے۔پس حقیقی اسلام کے یہ معنے نہیں کہ ہم سنی ہیں یا ہم خارجی ہیں۔حقیقی اسلام کے یہ معنے نہیں کہ ہم اہلحدیث ہیں۔حقیقی اسلام کے یہ معنے نہیں کہ ہم شافعی یا حنفی ہیں یا کسی اور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔حقیقی اسلام کے یہ معنے ہیں کہ ہم اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبردار رہیں گے اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک حکم کی اطاعت کریں گے کیونکہ اسلام کے معنے اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔بیشک ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو گیا اپنے نام کے لحاظ سے مسلم ہے چاہے وہ سنی ہو ، شیعہ ہو، چکڑالوی ہو ، اہل حدیث ہو لیکن جہاں تک حقیقت اسلامی کا سوال ہے ہم اس وقت مسلم کہلا سکتے ہیں جب ہمارے اندر خدائی احکام پر عمل کرنے کی روح موجود ہو۔جیسے قرآن کریم نے ابراہیم “ پر ایمان لانے والوں کو بھی مسلمان کہا۔موسیٰ پر ایمان لانے والوں کو بھی مسلمان کہا حالانکہ ان کے سامنے قرآن نہیں تھا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ کہ ہم خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اس سپرٹ کا نام اسلام ہے۔جب یہ سپرٹ پیدا ہو جائے تو چاہے وہ دوسروں سے کتنا ہی اختلاف رکھتا ہو وہ مسلمان ہے کیونکہ اس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کے آگے اپنا سر نہیں جھکاؤں گا۔صحابہ نے جب ایران پر حملہ کیا تو ایرانی بادشاہ نے سوچا کہ یہ عرب ذلیل اور اونی قسم کے لوگ ہیں اگر ان کو کچھ لالچ دے دیا جائے تو یہ واپس چلے جائیں گے۔چنانچہ اس نے اسلامی کمانڈر کو لکھا کہ میں آپ لوگوں سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں آپ اپنے نمائندے میری ملاقات کے لئے بھجوا دیں۔اُس نے چند صحابہ کو بھجوا دیا۔وہ وہاں پہنچے تو لوگ تو بادشاہوں کے سامنے سر جھکانے کے عادی ہوتے ہیں مسلمان خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کے آگے اپنا سر نیچا ہی نہیں کرتے تھے وہ ملاقات کے لئے گئے تو دربار کے قالینوں پر اپنے نیزے مارتے ہوئے اندر گھس گئے اور جاتے ہی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا۔وہ حیران ہوا کہ یہ کیسے لوگ ہیں مگر بہر حال چونکہ اس نے خود بلایا تھا اِس لئے اُس نے