انوارالعلوم (جلد 23) — Page 534
انوار العلوم جلد 23 534 حقیقی اسلام انہیں بٹھایا اور کہا کہ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ تم لوگ گوہیں کھانے والے مہذب دنیا کی غذاؤں سے نا آشنا، شادی بیاہ کے قوانین سے ناواقف بالکل اجڈ اور جاہل لوگ ہو۔تم باپ کے مرنے کے بعد ماؤں کو ورثہ میں لے لیتے ہو ، تمہارا جہاں بانی اور حکمرانی سے کیا واسطہ۔میں نے تمہاری غربت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تم میں سے ہر ایک سپاہی کو ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں۔بس تم یہ روپیہ لو اور واپس چلے جاؤ۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ اس نے ان کی کیا حیثیت سمجھی تھی۔ایک چھوٹی سے چھوٹی ریاست بھی یہ پیشکش نہیں کر سکتی کہ ہر سپاہی کو پونے دس روپے اور افسر کو میں روپے دے دیئے جائیں اور ان سے غداری کروائی جائے۔اگر آج کسی لیفٹینٹ کے پاس کوئی شخص جائے اور اسے کہے کہ میں روپے لے لو اور فلاں کی غداری کرو تو وہ اسے تھپڑ مارے گا۔اس لئے نہیں کہ وہ غداری نہیں کر سکتا بلکہ اس لئے کہ کیا تم نے مجھے ایسا ہی ذلیل سمجھا ہے کہ میں بیس روپے کے بدلے غداری کا ارتکاب کرلوں گا۔مگر اس نے اسلامی لشکر کے سامنے یہی پیشکش کی۔صحابہ نے اس کی یہ بات سنی تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ فرمارہے ہیں درست ہے۔ہماری حالت ویسی ہی تھی جیسا کہ ابھی آپ نے ذکر کیا ہے ہم اس سے انکار نہیں کرتے لیکن اب خدا تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی بھیج دیا ہے اور ہماری حالت بالکل بدل چکی ہے۔اب خدا کا وعدہ ہے کہ ظلم اور فساد کو دنیا سے مٹایا جائے گا۔پس جب تک ظلم اور فساد قائم ہے ہم لڑیں گے اور اس وقت تک لڑتے چلے جائیں گے جب تک خدائی حکومت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔بادشاہ کو اس جواب پر غصہ آیا اور اُس نے حکم دیا کہ ایک مٹی کا بورا بھر کر لاؤ اور اُن کے افسر کے سر پر رکھ دو۔گویا جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں کہ ”تیرے سر تے کھہ “ یعنی تیرے سر پر خاک پڑے۔اِسی طرح اُس نے کہا کہ اب تمہارے سروں پر خاک ڈالی جاتی ہے۔جاؤ جو کچھ تم نے کرنا ہے کر لو۔اس صحابی نے بڑے آرام سے اپنا سر جھکایا اور مٹی کا بورا اپنے سر پر اٹھا کر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا چلو ایران کے بادشاہ نے خود اپنے ملک کی مٹی ہمارے حوالے کر دی ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور