انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 532

انوار العلوم جلد 23 532 حقیقی اسلام اسے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا یہ ہو ہا ہے کہ ایک مسلمان مرتد ہو جائے سین جب تک وہ قرآن کریم کو مانتا ہے وہ قرآن کریم کے صحیح ہونے میں شبہ نہیں کر سکتا۔بعض فرقے مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے کچھ حصے غائب ہیں لیکن اُن میں سے بھی یہ کوئی نہیں مانتا کہ جو قرآن کریم موجود ہے اس میں بعض حصے غلط ہیں لیکن عیسائیت تو یہ کہتی ہے کہ جو چیز موجود ہے اس میں بھی کئی آئنتیں غلط ہیں۔چنانچہ ہماری جماعت کی طرف سے جب اعتراضات کئے گئے تو کئی آیات عیسائیوں نے انجیل میں سے نکال ڈالیں بلکہ اب امریکہ میں ایک نئی بائیبل شائع ہوئی ہے جس میں سے وہ تمام آیات انہوں نے نکال دی ہیں جن پر ہماری طرف سے اعترض کیا جاتا تھا اور لکھا ہے کہ یہ بعد میں بعض مفسرین نے زائد کر دی تھیں اصل نسخوں میں یہ آیات نہیں پائی جاتیں۔ہم کہتے ہیں کہ خواہ کچھ کہو۔بہر حال فتح ہماری ہے کیونکہ تمہیں آج پتہ لگا کہ یہ آیتیں غلط ہیں لیکن ہمیں قرآن کریم کی روشنی میں پہلے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ یہ غلط ہیں۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کتاب کو عمل کے لئے آسان بنا دیا ہے۔اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کی عقل اور اس کے فہم اور اس کی فراست کو صدمہ پہنچانے والی ہو۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی آیت کے معنے نہ سمجھے یا غلط مفہوم سمجھ کر شکوک میں مبتلا ہو جائے لیکن جب بھی وہ کسی واقف شخص کے پاس جائے گا اسے پتہ لگ جائے گا کہ غلطی میری ہی تھی قرآن کریم میں کوئی غلطی نہیں۔نولڈ کے جر من مستشرق اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں، اس کی آیات مضمون کے لحاظ سے بالکل بے جوڑ ہیں لیکن آخری عمر میں پہنچ کر وہ لکھتا ہے کہ میں نے قرآن کریم کی ترتیب کے متعلق جو رائے ظاہر کی تھی وہ غلط تھی میں نے جب قرآن کریم کا گہرا مطالعہ کیا تو مجھے اس میں بڑی زبر دست ترتیب نظر آئی۔یہ محض ہماری ناواقفیت ہے کہ ہم اپنی نا سمجھی کی وجہ سے قرآن کریم پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی کتاب عطا فرمائی ہے جس نے