انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 531

انوار العلوم جلد 23 531 حقیقی اسلام کہ اگر وہ چاہیں تو آسانی سے اس کی اتباع کر کے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بن سکتے ہیں۔مثلاً پہلی چیز تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ کیا کہ امت محمدیہ میں شامل ہونے والے افراد مسلمان کہلائیں گے جس کے معنے یہ تھے کہ وہ جب چاہیں گے حقیقی مسلمان بن سکیں گے۔تو اس کے لئے ایک سامان تو اس نے یہ پیدا کیا کہ اس نے قرآن کریم کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔عیسائیت کے متعلق خود عیسائیوں کی لکھی ہوئی سینکڑوں کتابیں ایسی موجود ہیں جن میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ انجیل ایک محرف و مبدل کتاب ہے لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کے متعلق اسلام کے شدید ترین دشمن بھی مانتے ہیں کہ جس رنگ میں اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا بعینہ اسی رنگ میں یہ کتاب آج بھی موجود ہے۔سرولیم میور جیسا شدید دشمن اسلام قرآن کریم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ ہم اسے جھوٹا سمجھتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہم اس کتاب کے لانے والے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے اپنی طرف سے یہ باتیں پیش کی ہیں لیکن اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ جس صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے قرآن کریم پیش کیا تھا اُسی صورت میں وہ آج بھی موجود ہے۔2 آخر دشمن تو یہی کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ساری باتیں اپنی طرف سے بنا کر پیش کی ہیں لیکن ہمارے لئے یہ کتنا شاندار سر ٹیفکیٹ ہے کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اُسی شکل میں وہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔وہ قرآن کے متعلق یہ الفاظ کہتے ہیں لیکن انجیل کے متعلق نہیں کہتے بلکہ بعض عیسائی کہتے ہیں کہ ہمیں حسرت ہے کہ کاش !ہم انجیل کے متعلق بھی ویسی بات کہہ سکتے جو ہم قرآن کریم کے متعلق کہتے ہیں۔اب یہ کتنی بڑی فضیلت اور برتری کی بات ہے۔ہر پڑھا لکھا عیسائی جب انجیل پڑھتا ہے تو اس کے دل میں شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مسیح نے یہی بات کہی تھی یا کچھ اور کہا تھا لیکن قرآن کریم کا پڑھنے والا شروع سے آخر تک یہ یقین رکھتا ہے کہ یہ اُسی شکل میں ہے جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے