انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 530

انوار العلوم جلد 23 ہے۔530 حقیقی اسلام ہم محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی پوری اطاعت کریں۔گویا ہماری فضیلت یہ ہے کہ ہم دہرے مسلم ہیں۔ایک اس لحاظ سے جس لحاظ سے سارے انبیاء کی جماعتیں مسلم قرار پائیں اور ایک اس لحاظ سے کہ ہماری قوم کا نام بھی مسلم رکھ دیا گیا 1 بے شک یہ نام ایک تفاول کے طور پر رکھا گیا ہے جیسے ماں باپ اپنے بچوں کا نام رکھ دیتے ہیں۔لیکن یہاں ایک زائد بات یہ ہے کہ ماں باپ نام رکھتے ہیں تو اپنے بچوں میں ویسی صفات پیدا نہیں کر سکتے۔وہ اپنے بچے کا نام بہادر خان رکھتے ہیں لیکن وہ اتنا بز دل ہوتا ہے کہ ایک چوہے سے بھی ڈر جاتا ہے۔وہ اپنے بچے کا نام حاتم خان رکھتے ہیں لیکن وہ ہو تا سخت بخیل ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کا نام رکھتا ہے تو چونکہ خدا تعالیٰ میں طاقت ہے کہ وہ ویسی ہی صفات پیدا کر دے اس لئے وہ صرف تفاؤل ہی نہیں ہو تا بلکہ خدا تعالیٰ کا بھی ارادہ ہو تا ہے کہ اسے اس نام کا مستحق بنادے۔پس ہمارا نام جو مسلم رکھا گیا ہے یہ ہے تو ایک نام ہی لیکن اس میں یہ وعدہ بھی پوشیدہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے اگر کوشش کریں تو انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق مل جائے گی۔پس ”حقیقی اسلام “ کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے اندر یہ روح پیدا ہو جائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کو سن کر ان کی اطاعت کریں اور کامل فرمانبرداری کا مظاہرہ کریں۔یوں تو ہر شخص جو مسلمان کہلاتا ہے وہ مسلمان ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْوَلَدُ يَوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے آگے اُس کے ماں باپ اُسے سکھا کر یہو دی بنا دیتے ہیں یا اگر ماں باپ عیسائی ہوں تو وہ اسے عیسائی بنا دیتے ہیں یا مجوسی ہوں تو وہ اسے مجوسی بنا دیتے ہیں 2 لیکن پیدائشی لحاظ سے وہ فطرت صحیحہ لے کر ہی پید اہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا خوف اور اُس کی محبت کا مادہ اس کے دل میں ہوتا ہے۔ا غرض ترقی کرنے کے جس قدر سامان ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے مہیا فرما دیئے ہیں۔ایک طرف اُس نے ہر بچہ کو فطرت صحیحہ دے کر پیدا کیا اور دوسری طرف اُس نے مسلمانوں کا ایسا ماحول بنا دیا اور دین کو اُن کے سامنے ایسے رنگ میں رکھا